انسان اگر سانپ سے یاری لگا لے تو اس میں قصور سانپ کا نہیں، بلکہ انسان کا اپنا ہوتا ہے ۔ سانپ سے دوستی کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اس خوف میں جیتا رہے کہ نہ جانے کب وہ اسے ڈس لے گا ،اور اگر کوئی اس امید میں اپنی توانائیاں صرف کرتا رہے کہ سانپ اپنی فطرت بدل لے گا تو یہ عقل مندی نہیں، خود فریبی ہے ۔
جس طرح قدرت کے رنگ ایک جیسے نہیں ہوتے، اسی طرح تمام انسانوں کی فطرت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔
ہم سب کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا زہریلا رویہ یا رشتہ ضرور ہوتا ہے ،جسے ہم صرف اس خوف سے نبھاتے رہتے ہیں،کہ لوگ کیا کہیں گے، اور یوں خود کو مسلسل اذیت میں مبتلا رکھتے ہیں ۔
دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ادویات میں ڈپریشن کی دوائیں بھی شامل ہیں، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم یہ طے کر لیتے ہیں کہ ہمیں ہر صورت سامنے والے کو بدلنا ہے ۔
حالانکہ سامنے والا نہ صرف خود کو بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا بلکہ ،اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا ،اور ہم پھر بھی یہی کہتے رہتے ہیں کہ “میں اسے بدل کر ہی چھوڑوں گا ۔”
یاد رکھیے، کسی کو بدلنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ خود بھی بہتر بننے کی خواہش رکھتا ہو ۔
بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر ہمیں اپنی زندگی اور ذہنی سکون قربان کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی، مگر ہم خود کو بے جا طور پر تھکا دیتے ہیں ۔
ایک خاتون نے مجھ سے پوچھا: “کیا آپ کے پاس کسی سائیکالوجسٹ کا نمبر ہے؟ “
میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا :”آپ کو اس کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ “
وہ بولیں: “میں شدید ڈپریشن، اینگزائٹی اور بے خوابی کا شکار ہوں، زندگی کا حسن مجھ سے چھن گیا ہے ۔”
میں نے پوچھا: “آپ اس کیفیت تک کیسے پہنچیں؟ “
وہ کہنے لگیں: “میری ایک دوست ہیں، جو مجھے اپنی بہنوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں، دل کی اچھی ہیں اور مجھ سے محبت بھی کرتی ہیں، لیکن ان کا مزاج بہت عجیب ہے ۔کبھی مجھے بلاک کر دیتی ہیں اور کبھی ان بلاک، کبھی بے حد محبت سے بات کرتی ہیں اور کبھی بغیر کسی وجہ کے لوگوں کے سامنے میری تذلیل کر دیتی ہیں ۔
میں انہیں چھوڑ نہیں سکتی کیونکہ دوستی پرانی ہے اور ان کے مجھ پر کچھ احسانات بھی ہیں۔ لیکن ان کی طرف سے ملنے والی اذیت ناقابلِ برداشت ہے ،جب وہ مجھے تکلیف پہنچاتی ہیں ،تو میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے، گھر کا ماحول متاثر ہوتا ہے، میں اپنے بچوں کو اور گھر کو وقت نہیں دے پاتی ۔
بس یہی کوشش کرتی رہتی ہوں کہ وہ مجھ سے خوش ہو جائیں، مجھ سے راضی ہو جائیں ۔
اب تو ڈپریشن کی دوائیں میری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں ،چڑچڑاپن اور الجھن میری شخصیت میں شامل ہو گئے ہیں ، میں مسکرانا بھول چکی ہوں ۔
ہر وقت انہی کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں، شاید کوئی تھراپی مجھے اس اذیت سے نجات دلا دے ۔
میں نے ان سے کہا :جب آپ احسان کا بدلہ احسان ،دعا، محبت یا خیر خواہی سے چکانے کے بجائے کسی رشتے کی پرستش شروع کر دیتے ہیں تو پھر ڈپریشن پکا ہے ۔
زہریلے رشتوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے رویوں کی تلخی اور اپنی شخصیت کا زہر دھیرے دھیرے آپ کی ذات میں منتقل کر دیتے ہیں۔
جو رشتے آپ کو ناامیدی کی طرف لے جائیں، آپ کی صلاحیتوں کے راستے میں رکاوٹ بن جائیں، آپ کو مسلسل شک میں مبتلا رکھیں یا احساسِ کمتری کا شکار کرتے رہیں، ایسے رشتوں میں مناسب فاصلہ رکھنا ضروری ہے ۔
جس نے اندھیروں سے صلح کر لی ہو، اس پر خود کو خرچ نہ کریں ۔
کم از کم اپنی حدود (Boundaries) ضرور متعین کریں، ان حدود کا مطلب قطع تعلقی نہیں، بلکہ اپنے جذبات کو ایسی جگہ ضائع ہونے سے بچانا ہے ،جہاں ان کی کوئی قدر نہ ہو ۔
آپ کی ذہنی صحت کا گہرا تعلق ان رشتوں سے ہے جو آپ کو بے لوث محبت دیتے ہیں، آپ کو سمجھتے ہیں اور آپ کو آپ کی تمام کمزوریوں اور خوبیوں سمیت قبول کرتے ہیں ۔
تحریر :سویرا ثاقب
31/05/2026
کراچی پاکستان