جانتے ہو سب سے مشکل کام کیا ہے ؟
سب سے مشکل کام تنہا ہو جانا ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ انسان موت اور قید سے گھبراتا ہے ۔
جب انسان کے اندر اکیلا ہونے کا خوف ختم ہو جائے تو اُس کی تنہائیاں آباد ہونے لگتی ہیں ۔
یہ خوف تب ختم ہوتا ہے ،جب انسان اپنے گرد ایسی طاقت کو محسوس کرنے لگے جو تنہائی کو خوبصورت اور خاموشی کو پُرسکون کر دیتی ہے ۔
ہمیں اگر ایک دن بھی اکیلے گزارنا پڑ جائے تو ہم بےچین ہونے لگتے ہیں۔
گھر میں موجود چیزوں کے ہلنے کی معمولی آوازیں ہمیں ڈرانے لگتی ہیں۔
دروازوں کی آواز، کھڑکیوں کی سرسراہٹ، حتیٰ کہ آئینے میں اپنا عکس بھی خوفزدہ کر دیتا ہے ۔
ہم اپنے سایوں سے بھی خوف کھانے والے لوگ، کیا تخلیق میں پوشیدہ رازوں پر غور کر سکیں گے ؟
کیا اقبال کے شاہین کو سمجھ سکیں گے ؟
یہ حقیقت ہے کہ کچھ تنہائیاں انسان کو اداس کر دیتی ہیں ،اسی لیے اللّٰہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے لیے حضرت حوا علیہ السلام کو پیدا فرمایا ۔
مگر جس تنہائی کی میں بات کر رہی ہوں، وہ انسان کی سوچوں کو توانائی دیتی ہے ۔
اس تنہائی میں انسان اللّٰہ سے ہم کلام ہوتا ہے، کائنات کے افکار پر غور و فکر کرتا ہے، اور خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر طے کرتا ہے ۔
ایسا انسان اپنے راستے پر ثابت قدم دکھائی دیتا ہے اور یقین سے کہتا ہے کہ اللّٰہ میرے لیے کافی ہے، وہ بہترین کارساز ہے ۔
توکل سے اٹھنے والے قدموں کی شان الگ ہوتی ہے ۔
ایسا انسان راستے بند ہونے کا ماتم نہیں کرتا، اللّٰہ پر یقین رکھتا ہے، اور اُس کے لیے نئے راستے پیدا کر دیے جاتے ہیں ۔
خود کو پہچانیں، اللّٰہ سے لو لگائیں،اگر اُس نے آپ کو کسی بڑے مقصد کے لیے چُن لیا ہے ،تو پھر تنہا ہونے سے مت ڈریں ۔
آپ کو تنہا کر دیا جاتا ہے، مستقبل میں آنے والے طوفانوں کے لیے ایک مضبوط چٹان بنانے کے لیے ،اپنی تنہائی کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنائیں ۔
تحریر : سویرا ثاقب
16/05/2026
کراچی پاکستان