تبدیلی کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔
اگر میں کہوں کہ میرے ایک بدلنے سے کون سا
معاشرہ سدھر جائے گا تو یہ درست نہیں ۔
دنیا میں رزق اور مواقع کی کمی نہیں، البتہ دنیا میں اچھے انسانوں کی کمی ضرور ہے ، وطنِ عزیز کسی درد مند کا نظریہ اور کسی رہنما کی انتھک محنت کا ثمر ہے ۔
اس وطن کو مخلص لوگوں کی ضرورت ہے ،وہ لوگ جن کی نیند کو چھت سے ٹپکتی بوندوں نے خراب کیا ہو، وہ جنہوں نے بھوک اور گرمی کی شدت کو
سہا ہو، وہ جو خالی جیب کا بوجھ اٹھا چکے ہوں ۔
سونے کی چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا طبقہ محنت کے ذائقے کو کہاں محسوس کر سکتا ہے ، بھلا اسے کھانے کی کیا قدر ہوگی جسے بھوک ہی نہ ہو ؟
ہمارا قابل نوجوان طبقہ اپنی طاقت سے ہی واقف نہیں ،اس لیے اکثریت ڈگری لیتے ہی بیرونِ ملک کا رخ کرتی ہے ۔
کچھ تو ڈگری کا بھی انتظار نہیں کرتے اور چل پڑتے ہیں ، انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے وطن کو کن کے حوالے کر کے جا رہے ہیں ۔
کیا وہ ایک غریب کے ساتھ زمین پر بیٹھنے کی جرأت کر سکتے ہیں ؟
کیا وہ فاقے کے شکار گھروں کے غم میں اپنی
شاہانہ زندگی پر کوئی کمپرومائز کر سکتے ہیں ؟
نہیں
لال قالین سے محبت انسان کو عقل سے پیدل اور شعور سے محروم کر دیتی ہے ۔
ترقی یافتہ ممالک میں جتنی محنت ایک پاکستانی کرتا ہے ،شاید ہی کوئی اور کرتا ہوگا ، ہاں کچھ ایسے ہیں جو اپنی اجڑی اجڑی، بکھری بکھری سی شخصیت کے ہاتھوں مجبور ہو کے دوسروں کو چونا لگائے بغیر سکون کی نیند نہیں سو سکتے، لیکن اکثریت ایماندار ہے ، جو محنت کی قدر جانتی ہے ۔
ہمارے نوجوان کے پاس وطن چھوڑنے کا سب سے پہلا جواز یہ ہے کہ بیک اپ نہیں ، بھائی یہ بیک اپ کیا ہوتا ہے ؟
محنت، جستجو اور مستقل مزاجی سے بڑی وراثت بھی کوئی ہو سکتی ہے ؟
جلنا ہی ہے تو روشنی اپنی سرزمین پر پھیلائیں ،ہار مان کر یوں کیوں چل دیتے ہیں ؟
مزدور طبقہ یہاں صبح و شام دکھائی دیتا ہے، جبکہ رئیس طبقہ اپنی ذات کے پنجرے سے باہر آنے کو تیار نہیں ،اور باشعور طبقہ ملک بدر ہو جاتا ہے ۔
کچھ چمکتے ستارے اور پروانے وطن کی دیمک لگی بیساکھی کو کب تک سنبھالیں گے ؟
میرے وطن کو ہمدرد لوگوں کی ضرورت ہے جو دوسروں کی ذات میں تبدیلی لا کر مسکرانا جانتے ہیں، جو قربانی کو روح میں اتارنا جانتے ہیں ۔
چند درھم، چند ڈالر آپ کو ایک گھر کا مالک بنا سکتے ہیں، آپ کی اولاد ایک اچھے کالج یونیورسٹی میں پڑھ کر ایک اچھی شادی شدہ زندگی گزار سکتی ہے ،لیکن کیا جب آپ اس وطن ،اس سرزمین کی طرف واپس لوٹیں گے ، تو آپ سے یہ مٹی سوال نہیں کرے گی ؟
اس مٹی کو آپ کی ضرورت تھی ، ہے ، اور رہے گی ۔
تحریر ۔۔۔۔ سویرا ثاقب
29/06/2026
کراچی پاکستان