وفا کے گمنام مسافر

  • June 22, 2026

‎فیمنزم اور لبرل ازم صرف اُس مرد کی بات کرتے ہیں جو تربیت یافتہ نہیں ،اور جو اپنی زمہ داریوں کو بوجھ سمجھتا ہے ۔
‎ان کا موضوع وہ مرد ہے جس کے نزدیک عورت محض وقت گزاری اور دل بہلانے کا ایک ذریعہ ہے ،یہ اُس مرد پر گفتگو کرتے ہیں ،جس نے تمام عمر اپنے گھر کی عورت، یعنی اپنی ماں، کی تذلیل ہوتے دیکھی اور عورت کی عزت کرنا سیکھا ہی نہیں ۔
‎ان کا نشانہ وہ مرد ہے جس نے کبھی عورت کی وفا، محبت اور قربانی کو محسوس نہیں کیا ،چنانچہ اس دین بیزار طبقے نے یہ طے کیا کہ عورت کو مرد سے ہی متنفر کر کے نام نہاد آزادی کے خواب دکھائے جائیں ۔
‎ آذادی کے نعرے بلند کرنے والی یہ خواتین اُس مرد پر بات کیوں نہیں کرتیں جو تمام عمر خود کو محنت کی آگ میں جھونک کر اپنی بہن اور بیٹی کی تعلیم اور شادی کے لیے پائی پائی جمع کرتا ہے ؟
‎یہ اُس کا ذکر کیوں نہیں کرتیں جو اپنے گھر کی خواتین کے لیے برسوں پردیس کی خاک چھانتا ہے ؟
کیونکہ ان کا موضوع وہ مرد ہے ہی نہیں جو عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیتا ہے ،ان کا مقصد تو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنا ہے ،ان کا ہدف تو ہمارا خاندانی نظام ہے ۔
‎ان کا مقصد گھر کی چار دیواری میں عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے والی عورت کو بازار کی ایک شے بنا دینا ہے ۔
‎معاشرے کے زوال کا بیڑا اٹھانے والی ان خواتین سے کوئی پوچھے کہ اپنے حق میں گھڑے ہوئے ان پروپیگنڈوں میں انہوں نے اپنا انجام تلاش کیا ہے یا نہیں ؟
‎ان خواتین کی اکثریت وہ ہے جس نے مرد کی بے وفائی یا درندگی کا سامنا کیا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمام مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ،جس طرح ہاتھ کی تمام انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی طرح تمام مردوں کی فطرت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔
‎حقیقت تو قرآن کا فیصلہ ہے ۔۔۔۔
‎ ” ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں ۔”(القرآن)
‎ان خواتین کو تو اپنے گریبان میں جھانکنے کی اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
‎ہماری ڈرامہ انڈسٹری کی اکثر کہانیاں ایک بے وفا مرد سے شروع ہوتی ہیں اور بے وفا مرد پر ہی ختم ہوتی ہیں ،حالانکہ بدکردار اور بے وفا مردوں کی تعداد معاشرے میں
٪10 فیصد بھی نہیں ۔
‎ خوبصورتی سے پیش کی گئی ایسی کہانیاں ایک عام گھریلو خاتون کو یہ باور کروا دیتی ہیں کہ شادی کے بعد عورت کی اپنی کوئی حیثیت نہیں رہتی، وہ غلام بن جاتی ہے، اس کی کوئی خوشی نہیں ہوتی اور وہ نوکرانی جیسی زندگی گزارتی ہے ۔
‎محترمہ !مختلف ذرائع اور مختلف طریقوں سے آپ کی سوچ تبدیل کی جا رہی ہے۔
‎شادی غلامی نہیں، بادشاہت ہے، بشرطیکہ آپ سلطنت چلانے کے اصول و ضوابط جانتی ہوں ،آپ یہ جانتی ہوں کہ جو شخص آپ کو اپنا نام ،اعتماد اور رفاقت سونپ رہا ہے، اس کی قدر کیسے کرنی ہے ۔
‎آپ اُس کی آنکھوں میں اپنی اولاد کا روشن مستقبل دیکھ سکتی ہوں ۔
‎آپ اپنے لیے اپنے شوہر کی حساسیت اور محبت کو محسوس کر پائیں ،تو اُس سے بدگمان ہونا تو دور، اُس سے شکوہ کرنا بھی بھول جائیں گی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کو اُس کے مقام، اہمیت اور زمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ یہ موسمی فتنے اس اہم رشتے کی بنیادیں کمزور نہ کر سکیں ۔
‎وطنِ عزیز میں مردوں کی اکثریت اپنے لیے تو جیتی ہی نہیں ،اُن کی آنکھوں میں اپنے گھر کی عورت کو بہتر زندگی دینے کی خواہش اور وفا کا عکس صاف دیکھائی دیتا ہے ۔
‎عورت ہر وقت اپنے حقوق اور عزت کا مطالبہ تو کرتی ہی رہتی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ عزت، احترام اور قدردانی کا تبادلہ کرنا بھی سیکھے ۔اپنے گرد اولاد جیسے بکھرے ہوئے موتیوں کی چمک سے اپنے کردار کو روشن کرے اور اپنی سوچ کو وسیع بنائے ۔

تحریر : سویرا ثاقب
16جون 2026
کراچی پاکستان


‎نوٹ : معاشرے میں برائی موجود ہے، مگر چند منفی مثالوں کی بنیاد پر پوری مرد ذات کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں ،رشتوں کی مضبوطی باہمی احترام، اعتماد اور قدردانی سے قائم رہتی ہے ۔

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

‎ پہلی تحریر میں نے کراچی کے خستہ حال پر لکھی تھی ۔‎‎یہ حقیقت ہے کہ کراچی پاکستان کا وہ...
تبدیلی کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر میں کہوں کہ میرے ایک بدلنے سے کون...
مجھے قریباً ڈھائی تین سال ہو گئے تحریریں لکھتے ہوئے ،میں اپنی ممکن کوشش کے باوجود بھی ایک موضوع منتخب...
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو لاغر، کمزور، بے بس اور مکمل طور پر ماں کی آغوش کا محتاج...