ایک شہر کئی کہانیاں

‎ پہلی تحریر میں نے کراچی کے خستہ حال پر لکھی تھی ۔

‎یہ حقیقت ہے کہ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جس کے نام سے بھی مجھے خوف آتا تھا
،10 سال کی عمر میں دہشت گردی کی دہشت دل و دماغ پر یوں حاوی تھی کہ مجھے لگتا تھا وہاں جاؤں گی تو مار دی جاؤں گی ۔

‎شادی کے بعد جب نوکری کے سلسلے میں شوہر کراچی آئے تو یہاں آنے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا ۔

‎میرا آبائی گاؤں ایبٹ آباد ہے اور کیا ہی خوبصورت ، شاندار علاقہ ہے ایبٹ آباد ، جنتوں کا شہر ہے ایبٹ آباد ، رہائشی ایریا کے چاروں اطراف بلند و بالا اور سبزے سے بھرے پہاڑ، چشموں کا پانی ،خیر کبھی اپنے ایبٹ آباد کے حسن پر بھی روشنی ڈالوں گی ۔

‎فی الحال کراچی پر بات کرتے ہیں ۔

‎سن(2020)
جب میں کراچی آئی ،اس شہر میں قدم رکھتے ہی میں نے خود سے عہد کیا ،اگر میں اپنی تعلیم مکمل کرنے اور اپنی فیلڈ کی ماہر بننے میں کامیاب ہو گئی تو یقیناً یہاں میرا آنا کراچی کے لیے خیر کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔

‎ریلوے اسٹیشن پر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہاں اکثریت کا مقصد حیات دو وقت کی روٹی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔

‎دیہاڑی دار طبقے کے چہروں پر مایوسی کے بادل، قدم قدم پر ملنے والے بیکاری اور فضا میں بکھرا خوف میرے لیے عجیب تھا ۔

‎ آلودگی اور غربت کے باہمی اتفاق نے لوگوں کو زندگی کے اصل حسن سے آگاہ ہی نہیں کیا ۔

‎شوخیاں مارنے کے لیے جب یہاں کے نوجوانوں کو کچھ میسر نہیں آتا تو بائک کا سلینسر نکالنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔

‎پانی کی شدید قلت، سڑکوں کی حالت غیر مناسب ، غلطی سے اگر کسی سے راستہ پوچھ لیں تو پان چباتے چباتے وہ بات کو اتنا چباتا ہے ،کہ پوچھنے والا آدھی بات سن کر ہی اپنے رستے چل دیتا ہے ۔

‎لوگوں کی بڑی تعداد یہاں مشکل ترین زندگی گزار رہی ہے ،وہ بچے جن کو اسکولوں کی چار دیواری میں کھلنا تھا ،وہ کچرے کے ڈھیروں سے کباڑ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔

‎کچھ بچے تپتی زمین پر ننگے پاؤں چلتے اور بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ،بزرگ حضرات کی اکثریت محنت کرتے اور سڑکوں پر سبزی اور فروٹ کی ریڑھی پر کھڑے کام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

‎اٹھارہ جولائی (2025) کی بات ہے جب ہم ایک اے ٹی ایم کے قریب اترے تو ایک بچہ آ کر میرے پاس کھڑا ہو گیا ،گولڈن رنگ کا پینٹ اس کے چہرے پر لگا ہوا تھا ،گرم گولڈن کوٹ پینٹ پہنے ہوئے ، وہ میری بیٹی کی عمر کا لگ رہا تھا، لگ بھگ نو سال کا ، اس کا لباس، سر پر لگی کیپ ، اور شوز پر گولڈن چمک والا رنگ دیکھ کر میں نے اپنے شوہر سے ماجرا دریافت کیا ۔

‎ وہ کہنے لگے یہ حلیہ لوگوں کو انٹرٹین کرتا ہے، اس لیے وہ خوش ہو کر اسے پیسے دے دیتے ہیں ۔

‎اس بچے کی معصوم آنکھوں کی چمک اور بدن پر فکر
‎کے لباس کا منظر ، آج بھی میری آنکھوں سے نہیں جاتا ۔

‎شہر کراچی میں آپ کو بڑا درد ملے گا ،ایسے لوگ بھی ہیں جو غلاموں کی سی زندگی ،گزارنے پر مجبور ہیں ۔

‎جانتے ہیں سرکس میں ناچنے والے بھالو کو ناچنا کیسے سکھایا جاتا ہے ، ننھے بالو کو گرم توے پر کھڑا کیا جاتا ہے ،اور ڈگڈگی بجائی جاتی ہے ۔

اس کا ایک پاؤں جلتا ہے تو وہ دوسرا پاؤں توے پر رکھتا ہے اور ایک اٹھا لیتا ہے ، یوں وہ اپنے آپ کو اذیت سے بچانے کے لیے کبھی ایک پاؤں تپتے ہوئے توے پر رکھتا ہے کبھی دوسرا پاؤں ۔

‎یوں اسے ناچنے کی عادت ہو جاتی ہے ، یہ سخت عمل اسے ڈگڈگی کی غلامی پر آمادہ کر دیتا ہے ۔

‎جب انسان کا مقصد اپنی ذاتیات سے جڑا نہیں ہوتا تو انسان کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے ۔

‎ٹریفک رولز کچھ خاص سوسائٹی اور علاقوں کے لیے ہیں ،اکثریت تو ٹریفک رولز کے بارے میں جانتی ہی نہیں۔

بلا نما بسیں ، پان کے ذائقے میں گم ڈرائیور ایسے اڑاتے ہیں جیسے کوئی راکٹ ہو ۔

‎گدھا گاڑی کے پیچھے سریوں کا ایک بڑا طوفان چند رسیوں سے بندھا سڑک پر جھاڑو لگاتا دکھائی دیتا ہے ۔

‎کراچی شہر میں سب سے سستی شے انسان کی جان ہے ، اس لیے یہاں حادثات کی تعداد زیادہ ہے ،لوگوں کا بڑا حصہ ڈریسز سننس کا شعور ہی نہیں رکھتا ۔

‎ شلوار پر شٹ زیب تن کرنا یہاں کی اکثریت کا پسندیدہ لباس ہے ۔

‎مارکیٹ دن کے بارہ بجے کھلتی ہے اور رات دو بجے تک بازاروں میں میلے کا سمان ہوتا ہے ، ڈھابوں پر بکنے والے کھانے میں خلوص کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی میل شامل ہو کر ذائقے کو چار چاند لگا دیتی ہے ۔

‎اگر یہاں کے لوگوں کو شعور آ جائے ، تو منظر بدل جائے گا ،پھر یہ شہر کراچی پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اس وطن کا دھڑکتا ہوا دل مانا جائے ۔

‎سب سے زیادہ ملک کو فائدہ پہنچانے والا شہر کراچی ، لاوارث کراچی کے نام سے جانا جاتا ہے ،کیونکہ اس کے سرپرست ناامیدی کی رضائی اوڑھ کر سو رہے ہیں ۔

‎سڑکوں کے کنارے اس کا مستقبل میلے کمبل ، سروں پر اوڑھے آئس کے نشے میں غوطے لگا رہا ہے ۔

‎کراچی کا اگلا منظر انشاء اللّٰہ اگلی تحریر میں بیان کروں گی ،برائی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں ، انشاءاللّٰہ خوبیوں پر بھی بات ہوگی ۔

‎تحریر : سویرا ثاقب

‎29/06/2026

‎کراچی پاکستان

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

تبدیلی کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر میں کہوں کہ میرے ایک بدلنے سے کون...
مجھے قریباً ڈھائی تین سال ہو گئے تحریریں لکھتے ہوئے ،میں اپنی ممکن کوشش کے باوجود بھی ایک موضوع منتخب...
‎فیمنزم اور لبرل ازم صرف اُس مرد کی بات کرتے ہیں جو تربیت یافتہ نہیں ،اور جو اپنی زمہ داریوں...
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو لاغر، کمزور، بے بس اور مکمل طور پر ماں کی آغوش کا محتاج...