بکھر کر نکھرنے تک کا سفر

جب انسان کسی ٹراما سے گزر کر واپس زندگی کی طرف آتا ہے ،تو اُس کے اندر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا ۔ زندگی کی طرف بڑھنے والا اُس کا ہر قدم بھاری بوجھ اٹھائے ہوتا ہے ۔وہ بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے، مگر اُس کے اندر ایک مسلسل شور برپا ہوتا ہے ۔وہ فوراً کسی پر اعتماد نہیں کرتا، کیونکہ اُس نے اپنا اندر ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہوتا ہے ۔
سائیکالوجی یہ کہتی ہے ،کہ شدید ذہنی صدمے انسان کے (nervous system) کو بدل دیتے ہیں ۔انسان خطرات کو عام لوگوں سے پہلے محسوس کرنے لگتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹراما سے گزرنے والے لوگوں کی چھٹی حس غیر معمولی حد تک تیز ہو جاتی ہے ۔وہ لہجوں کے پیچھے چھپی سرد مہری، لفظوں میں موجود جھوٹ، اور چہروں کے پیچھے چھپے ارادے محسوس کر لیتے ہیں ۔بعض اوقات معمولی سی بے رخی بھی اُنہیں اندر تک زخمی کر دیتی ہے،اُن کے زخم صرف یادوں میں نہیں بلکہ احساس میں زندہ ہوتے ہیں ۔
کچھ لوگ زندگی کے حادثات کے ہاتھوں اتنے تلخ ہو جاتے ہیں ،کہ اُن کے قریب بیٹھنے والے بھی اُن کے لہجے کی سختی اور رویّوں کی کڑواہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
اُن کے اندر بے اعتمادی ہوتی ہے، اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ محبت کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں، کیونکہ وہ محبت کے نام پر ٹوٹ چکے ہوتے ہیں ۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مضبوط انسان بڑی تکالیف سے گزر کر ہی مضبوط بنتے ہیں ۔ نفسیات میں اِسے (Post-Traumatic Growth) کہا جاتا ہے، یعنی وہ کیفیت جہاں انسان اپنے زخموں سے بکھرنے کے بجائے ایک نئی شعوری طاقت حاصل کر لیتا ہے ۔
غم انسان کو صرف تکلیف نہیں دیتا، بلکہ بعض اوقات اُس کے اندر حیران کن نکھار بھی پیدا کر دیتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے آگ سونے کو جلا کر خالص بنا دیتی ہے ۔
جب غم زندگی میں داخل ہوتا ہے ،تو ابتدا میں پہاڑ محسوس ہوتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ اُس کے نقوش مدھم ہونے لگتے ہیں ۔
البتہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں ،جو کبھی ختم نہیں ہوتے، انسان صرف اُن کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے ۔
ٹراما سے گزرنے والے لوگوں کے مزاج اور رویّے ایک جیسے نہیں ہوتے ،کچھ اپنی تکلیف کو اپنی شخصیت کا مستقل حصہ بنا لیتے ہیں ۔ کچھ اپنی اندرونی کڑواہٹ اگلی نسلوں میں منتقل کر جاتے ہیں ۔کچھ لوگ انہی حادثات سے سیکھے گئے سبق کو سیڑھی بنا کر اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں ۔جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود زخمی ہونے کے بعد دوسروں کو انہی تکالیف سے بچانے کی جدوجہد شروع کر دیتے ہیں ۔
مگر ایک مختصر طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے ،جو خوف کو شکست دے کر باہر نکلتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو وسائل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی ذہنی مضبوطی کی وجہ سے دنیا پر اثر ڈالتے ہیں ۔
اُن کے اندر عجیب قسم کا سکون، ٹھہراؤ اور خود اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے ،اگر ایسے لوگوں کا تعلق اللّٰہ سے مضبوط ہو جائے تو اُن کے توکل کی طاقت حیران کن حد تک بلند ہو جاتی ہے ۔ لوگ اُنہیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ اتنے زخم سہنے کے باوجود یہ اندر سے کیسے قائم ہیں ۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو شان سے جیتے ہیں اور وقار کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ۔ وہ جان چکے ہوتے ہیں کہ تکلیف سے بڑا استاد کوئی نہیں ۔
اُنہیں یہ شعور حاصل ہو جاتا ہے کہ اگر قدرت نے اُنہیں کسی بڑی آزمائش کے لیے منتخب کیا ہے ،تو یقیناً اُن کے وجود سے کوئی بڑا کام لینا مقصود ہے ۔
یہی ادراک اُنہیں ایک نئی شخصیت عطا کرتا ہے، ایک ایسی شخصیت جو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، گہری اور باوقار ہوتی ہے ۔

تحریر : سویرا ثاقب
20/05/2026
کراچی پاکستان

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

انسان اگر سانپ سے یاری لگا لے تو اس میں قصور سانپ کا نہیں، بلکہ انسان کا اپنا ہوتا ہے...
جانتے ہو سب سے مشکل کام کیا ہے ؟سب سے مشکل کام تنہا ہو جانا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے...
اگر عورت یہ خواہش کرے ،کہ اُسے اُس کا ہمسفر ہی قبر میں اُتارے، تو یہ محض الفاظ نہیں، ایک...