اگر عورت یہ خواہش کرے ،کہ اُسے اُس کا ہمسفر ہی قبر میں اُتارے، تو یہ محض الفاظ نہیں، ایک مکمل داستان ہوتی ہے ۔عورت رنگوں میں فرق کرنا خوب جانتی ہے ،وہ جانتی ہے کہ کسی مرد کے ساتھ جینے اور مرنے کا فیصلہ وسوسوں کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا ۔وہ اُسے ہزار بار آزماتی ہے،اُس کے ظرف کو پرکھتی ہے، پھر جب دل کو یقین آ جائے ،تو اپنے ساتھ جڑے اُس محرم کے نام سے اُسے عشق ہو جاتا ہے ۔
ہمارے معاشرے میں پیرنٹنگ نہیں سکھائی جاتی ،یہ نہیں بتایا جاتا کہ ایک اچھے ہمسفر کی خوبیاں کیا ہوتی ہیں ،اور اس رشتے کو کامیاب بنانے کے اصول و ضوابط کیا ہوتے ہیں ۔ بڑے لوگ اپنے ظرف سے بڑے ہوتے ہیں مگر اکثریت اس حقیقت سے آگاہ نہیں ، یہاں لباس پر تو محنت کی جاتی ہے مگر کردار پر نہیں ۔ یہاں علم آسانی سے مل جاتا ہے ،مگر معاشرت نہیں سکھائی جاتی ۔
اگر کوئی شخص بغیر نکاح کے کسی کے ساتھ تعلق میں ہو تو “جوانی ہے، بچہ ہے، ناسمجھ ہے”،کہہ کر پردہ پوشی کر دی جاتی ہے، مگر میاں بیوی کے درمیان محبت، اتفاق، احترام اور اپنائیت کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔
ہو جاتی ہیں ،قومیں سوچ کے زوال کا شکار، مگر ہر زوال کو ایک بہار بھی تو ملنی چاہیے ۔ کچھ ستارے معاشرہ سنوارنے اور سیکھانے نکلتے ہیں، جن کا مقصد معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہوتا ہے، مگر ایسے لوگوں کے راستوں میں بھی ہزار رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔
عورت اگر اپنے محرم کے نام سے عشق کرنے لگے تو اُسے کون روک سکتا ہے، اور کیوں روکے گا ؟
اگر بیوی سے زندگی سنور جائے تو کوئی کیوں کر جدا ہو گا اور کیوں جدا کرے گا ؟
مرد اپنی بیوی سے گھر والوں کے سامنے سلام دعا نہ کرے، اُس سے میلوں کا فاصلہ رکھے، ہمارا دین تو یہ نہیں سکھاتا ۔
سیرت پڑھئے، حضرت محمد ﷺ محفل میں اماں عائشہ صدیقہؓ سے اظہارِ محبت فرماتے دکھائی دیتے ہیں ۔
بھلا جس نے اللّٰہ کو پا لیا ہو اُسے عورت میں کیا رغبت ہو گی ؟
مگر معاشرہ صرف تحریروں اور تقریروں سے نہیں سکھایا جاتا، معاشرہ عمل سے سکھایا جاتا ہے، عمل لفظوں سے زیادہ مؤثر اور تقریروں سے کہیں زیادہ پُراثر ہوتا ہے ۔
عورت اپنے محرم پر یوں ہی مہربان نہیں ہو جاتی ،اُس نے اپنی تکلیف میں اسے ننگے پاؤں چلتے دیکھا ہوتا ہے، اُس کی ذات کو سو عیبوں سمیت قبول کرنے والا مرد، اُسکا مان رکھنے والا اس کے دل میں افضل مقام رکھتا ہے ۔
مرد بھی عورت پر سب کچھ یوں ہی نہیں لُٹا دیتا، اُس نے بھی اُسے وفا شعار، اور مہربان پایا ہوتا ہے ۔
میاں بیوی ایک دوسرے کی اصلاح محبت سے کرنے والے ہوتے ہیں، ان کے درمیان جب تک خیرخواہی اور دکھ سکھ کا رشتہ نہیں ہو گا اس رشتے کا حسن ظاہر نہیں ہو گا،یہ غمگسار اگر آپس میں متفق نہ ہوں، تو اولاد کی بہترین تربیت کرنا ممکن ہی نہیں ۔
اگر یہ ایک دوسرے کو قبول نہ کریں تو گھروں کے ماحول تباہ ہو جاتے ہیں ،طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح مسلم معاشرے کے زوال کا پیش خیمہ ہے ۔
اس رشتے کو خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے،
سسرال کو سر پر سوار کر کے آج کی عورت نے سب سے بڑا نقصان اپنا کیا ہے ،اسے چاہیے کہ اپنے ہمسفر کو اُس کی وفاؤں میں آزاد چھوڑ دے ،اور شوہر کو چاہیے کہ عورت کو صرف عزت ہی نہ دے بلکہ دل سے اُس کی قدر بھی کرے ۔
جہاں کہیں محسوس ہو کہ اس رشتے کے درمیان انا آ گئی ہے، وہاں اُس انا کو قدموں تلے روند دینا چاہیے، کیونکہ یہی انا گھروں کو اُجاڑ دیتی ہے، رشتوں کی خوبصورتیاں تباہ کر دیتی ہے، اور اولادوں سے اُن کی زندگی کا حسن چھین لیتی ہے ۔
تحریر : سویرا ثاقب
10/05/2026
کراچی پاکستان