ایک عورت جب اپنی چادر کو پاؤں تلے روند دیتی ہے ناں ،تو نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں،جب یہ حیا کا سودا کرتی ہے ،تو سینہ تان کر چلنے والا مرد ،نظریں اٹھانے کے قابل نہیں رہتا ۔
عورت بیوی ہو، بیٹی ہو، ماں ہو یا بہن، اس کے تمام اوصاف کی بنیاد ایک صفت پر قائم ہے، اور وہ ہے حیا ۔
حیا صرف دل میں ہی نہیں ،بلکہ لباس میں ،نگاہوں میں ،اندازِ گفتگو میں اور معاملاتِ زندگی میں بھی ہونا ضروری ہے ۔
عجب دور ہے ،کہ عورت کو عزت و وقار کی بلندیوں سے اتار کر پستی کی راہوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔
اس کی سوچ بدلنے، اس کے نظریات کو تبدیل کرنے اور اسے اس کے اصل مقام سے دور کرنے کے لیے اربوں کھربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں ۔
کیونکہ دشمن یہ جانتا ہے ،کہ صالح مائیں ہی امت کی جڑ ہیں اور جب جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں ناں ،تو درخت اپنی تمام تر شان و شوکت کے باوجود زمین بوس ہو جاتا ہے ۔
سوشل میڈیا چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ مسلمان عورت کی اکثریت اپنے اصل مقام سے دستبردار ہو کر خود کو مادیت کی غلامی میں دے چکی ہے ۔
آج عورتوں کی بڑی تعداد کے نزدیک ،کامیابی کا ایک ہی معیار ہے ،اور وہ ہے پیسہ ۔
افسوس ،کہ انہیں یہ لگنے لگا ہے کہ دولت کے حصول کے لیے محنت، علم، کردار اور قابلیت نہیں بلکہ دین بیزاری کافی ہے ۔
ایک مسلمان مرد کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی غیرت کو بیدار رکھے، اپنی عورتوں کو عزت اور اعتماد کے حصار میں رکھے ۔
اگر آج بنیادیں کمزور ہو گئیں تو ، آنے والی نسلوں کو بیساکھی بھی میسر نہیں آئے گی ۔
ہم بے جان نوٹوں کے لیے مضبوط تجوریاں بنا سکتے ہیں، مگر اپنی قیمتی متاع سے غافل ہیں ۔
جانتے ہیں، جب ایک عورت کو تحفظ کی چار دیواری قید محسوس ہونے لگے تو کتنا نقصان ہوتا ہے؟
جب زمہ داری اسے زنجیر محسوس ہو تو کتنی تباہی ہوتی ہے؟
جب اولاد اسے بوجھ محسوس ہونے لگے تو گھر کیسے ،محبت ،شفقت اور سکون سے محروم ہوتے ہیں ۔
کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا شخص دیکھا ہے ،جس کے پاس اینٹوں کی ایک شاندار عمارت تو ہے، مگر گھر نہیں؟
میں نے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں،جن کی زندگی کے چاروں اطراف مادیت کی چمک بکھری ہوئی ہے، مگر زندگی کا حسن مانند پڑ چکا ہے ۔
کیونکہ جو زندگی کا حسن ہے، جو گھروں کی زینت ہے، اگر وہی پیسہ کمانے کی آگ میں خود کو جھونک دے، حیا کا جنازہ نکال دے اور اولاد سے اجنبیت اختیار کر لے تو گھر ،گھر نہیں بلکہ قبرستان بن جاتے ہیں ۔
میں عورت کی کامیابی کے خلاف نہیں، مگر کیا وہ کامیابی واقعی کامیابی ہے ؟
جس نے اسے اس کے اصل مقام سے دور کر کے ایک مارکیٹ پروڈکٹ میں تبدیل کر دیا ہو ؟
عورت ایک جنس نہیں بلکہ ایک زمہ داری ہے : اپنے باپ، بھائی اور شوہر کی زمہ داری ،اگر اسے گھر کی چار دیواری میں اپنائیت، محبت اور عزت نہ ملے تو یہ تباہی کے راستوں پر نکل پڑتی ہے ۔
اس کے ساتھ نرمی برتیں، اسے عزت دیں، اس کی کاوشوں کو سراہیں اور اسے خاص محسوس کروائیں ۔
یہ واقعی خاص ہے ،دینِ اسلام نے اسے خاص مقام عطا کیا ہے ،ہمارے نبی کریم ﷺ عورتوں کی عزت و تکریم کرنے والوں میں سب سے آگے تھے ۔
یاد رکھیں، عورت جب اپنی قدر کو پہچان لیتی ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے بہکا نہیں سکتی ۔
تحریر: سویرا ثاقب
14 جون 2026
کراچی پاکستان