انسان اپنی ناقدری کبھی برداشت نہیں کرتا، اسے بے وقعت ٹھہرا دیا جائے یا اس کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ بات اس کی روح تک کو ٹھیس پہنچاتی ہے ۔
وہ یہ سوال کرتا ہے:
” میری محنت، اخلاص اور کوشش کو کیوں روند دیا گیا؟ “
لیکن اس شور سے بھری دنیا میں بہت سے سوال گمنام ہو جاتے ہیں اور ان کے جواب نہیں ملتے ۔
یاد رکھیے !آپ کی خدمت، اخلاص اور صلاحیت کو معاشرہ تب زیادہ اہمیت دیتا ہے جب آپ معاشی اعتبار سے مضبوط ہوں، جب آپ میں تنہا چلنے کا حوصلہ ہو، اور جب آپ لوگوں کی پرستش سے انکار کرتے ہوئے اپنے ارادوں کو پر لگا کر اڑنا سیکھ لیں ۔
آپ کی پرواز لوگوں کو متوجہ کرتی ہے، جبکہ آپ کی استقامت انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ واپسی کی کشتیاں جلا چکے ہیں ۔
اس معاشرے میں لوگوں کے لیے سب سے تکلیف دہ شے اکثر آپ کی آنکھوں میں موجود امید کی چمک ہوتی ہے، جسے دیکھ کر بہت سے لوگ اسے بجھا دینے کی خواہش کرتے ہیں ۔
اور سب سے بڑی مہارت یہی ہے کہ آپ امید کے چراغ کو بجھنے نہ دیں ۔
خود کو قیمتی بنائیں ……
آپ کی ہر وقت اور ہر جگہ آسان دستیابی آپ کی اہمیت کم کر دیتی ہے ۔
مثبت سوچ آپ کی طاقت ہے، اسے منفی ہونے سے بچائیے، اور اس کا بہترین طریقہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ہے ۔
آپ کا علم، مطالعہ اور تجربہ جب یکجا ہو جاتے ہیں تو سننے والا سوتا نہیں بلکہ بیدار ہو جاتا ہے ۔
آپ کی عمدہ صحت آپ کے مقاصد کی تکمیل کے لیے آکسیجن جیسی اہمیت رکھتی ہے ۔
مراقبہ اور محاسبہ آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔
خدمتِ خلق کا جذبہ آپ کو تھکنے نہیں دیتا ۔
نفع و نقصان کے خوف سے آزادی آپ کو بغیر کسی معاوضے کے لوگوں کی زندگیاں بدلنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے ۔
بہترین اخلاق لوگوں کے بڑے ہجوم کو آپ سے جوڑ دیتے ہیں ۔
خودسپردگی سب سے اہم ہے ۔۔۔۔ جب آپ اپنی محنت اور کوشش کے بعد اپنا معاملہ اُس ذات کے سپرد کر دیتے ہیں جو بہترین وکیل اور سب سے بڑھ کر انصاف کرنے والا ہے، تو یہ مضبوط توکل آپ کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیتا ۔
خود کو قیمتی بنائیں …..
اپنا رہن سہن، لباس، عادات، اخلاق اور سوچ جتنی سنوارتے جائیں گے، قدرت اتنے ہی نئے مواقع آپ کے لیے پیدا کرتی چلی جائے گی ۔
تحریر: سویرا ثاقب
8 جون 2026
کراچی، پاکستان