انسان جب دنیا میں آتا ہے تو لاغر، کمزور، بے بس اور مکمل طور پر ماں کی آغوش کا محتاج ،دو سال تک اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو پاتا، پھر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے ۔
جب چلنا سیکھتا ہے تو بار بار گرتا ہے، سنبھلتا ہے، دوبارہ اٹھتا ہے، اور پھر ایک دن اعتماد کے ساتھ قدم بڑھانے لگتا ہے ،اگر ماں چوٹ لگنے کے خوف سے اسے چلنے ہی نہ دے، تو شاید وہ کبھی چلنے کی ہمت نہ کر سکے ۔
ایک ننھا پرندہ جب انڈے کے خول سے باہر آتا ہے تو حد درجہ کمزور اور بے بس ہوتا ہے ،اس کی ماں اپنی چونچ میں دانہ بھر بھر کر اس کے منہ تک پہنچاتی ہے، اسے سردی، گرمی اور خطرات سے بچاتی ہے،اور اپنے پروں کے سائے میں اسے محفوظ رکھتی ہے ۔
لیکن جیسے ہی اس ننھے پرندے کے پر نکل آتے ہیں تو ، وہی محبت کرنے والی ماں اسے گھونسلے کے کنارے لا کھڑا کرتی ہے، پھر ایک لمحے میں وہ اسے گھونسلے سے دھکا دے دیتی ہے ۔
بظاہر یہ بے رخی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ محبت کی بلند ترین شکل ہوتی ہے ۔
اگر وہ اسے ہمیشہ گھونسلے میں محفوظ رکھتی تو شاید وہ کبھی پرواز کرنا نہ سیکھ پاتا، ماں جانتی ہے کہ آسمان اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے ،اس لیے وہ عارضی خوف پر
مستقل صلاحیت کو ترجیح دیتی ہے ۔
پرندہ چند لمحوں کے لیے فضا میں ڈگمگاتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے، گرنے لگتا ہے، مگر پھر اچانک اس کے پَر اسے تھام لیتے ہیں اور وہ اڑنا سیکھ
جاتا ہے ۔
میرے ایک نہایت مہربان استاد نے میری شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا، ان کی رہنمائی نے میرے اندر چھپی بہت سی صلاحیتوں کو بیدار کیا،پھر ایک وقت ایسا آیا جب ان کی مصروفیات بہت بڑھ گئیں اور میری ان تک رسائی محدود ہونے لگی ۔
میں گھبرا گئی ۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اچانک سایہ دار شجر کا سایہ مجھ سے دور ہو گیا ہو ، ارادوں کے حوصلے کمزور پڑنے لگے ،ہر راستہ دشوار اور ہر منزل دور دکھائی دینے لگی ۔ گھڑی کی سوئیاں تو چل رہی تھیں، مگر میں جیسے رک گئی تھی ۔
ان دنوں میرے شوہر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے، بمشکل ان سے رابطہ ہوا ،میں نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے کہا،
”منزل دھندلی دکھائی دے رہی ہے۔”
شاید اب مجھے ایسے مخلص استاد کی رفاقت نصیب نہ ہو سکے ۔
میرے ہمسفر نے خاموشی سے میری بات
سنی ،اور پھر صرف ایک جملہ کہا :
”بچہ بڑا بھی تو ہوتا ہے ناں “
یہ الفاظ نہیں ایک حوصلہ تھا ۔۔۔
واقعی، بچہ جو ایک وقت میں کروٹ بدلنے کے بھی ماں کا محتاج ہوتا ہے، وہی ایک دن اپنے قدموں پر کھڑا ہو کر پورے گھر کی زمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
اس ایک جملے نے میری سوچ کا رخ بدل دیا ۔
مجھے محسوس ہوا کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ مجھے سمندر کی موجوں کے حوالے کر دیا جائے ،تا کہ میں تیراکی سیکھ سکوں ،آخر ماں اور استاد دونوں کی محبت کا مقصد ہمیشہ یہی تو ہوتا ہے کہ ان کے سائے میں پلنے والا ایک دن خود زمانے کا سامنا کرنے کے قابل ہو جائے ۔
پھر میں نے سوچا، اگر یہ معاملہ انسانوں کا ہے تو اس ذات کا کیا معاملہ ہوگا جس کی محبت تمام محبتوں پر غالب ہے ؟
وہ رب جو ستر ماؤں سے بڑھ کر اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے، کیوں چاہے گا کہ اس کا بندہ ہمیشہ دوسروں کا محتاج رہے ؟
جب وہ چاہتا ہے کہ لینے والا ہاتھ دینے والا ہاتھ بن جائے، خوف زدہ انسان اندھیروں میں بھی اپنی راہ تلاش کر لے، اور غلامی کی زنجیروں سے نکل کر ذہنی و فکری آزادی حاصل کر لے، تو پھر وہ اسے آزمائشوں کے راستے سے گزارتا ہے ۔
بعض اوقات چاروں طرف بے بسی، محرومی اور تنہائی کے سمندر ہوتے ہیں، مگر انہی موجوں سے لڑتے لڑتے انسان تیراکی سیکھ لیتا ہے ۔
کبھی محفلوں کے ہجوم سے دور کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ خود سے مل سکے ۔
کبھی سہارے چھین لیا جاتے ہیں ،تاکہ وہ اپنے قدموں کی طاقت کو محسوس کر سکے ۔
کبھی لوگوں کی توجہ کم کر دی جاتی ہے تاکہ اس کا دل صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائے ۔
تب انسان مقصدِ حیات کے ان سوالوں پر غور کرنے لگتا ہے ۔
میں کون ہوں؟
کہاں سے آیا ہوں؟
اور مجھے کہاں جانا ہے؟
یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب خود شناسی سے شروع ہوتے ہیں اور رب شناسی پر جا کر مکمل ہو جاتے ہیں ۔
یاد رکھیں، برا وقت ہمارا مان نہیں توڑتا، بلکہ ہمارے بھروسے کی اصلاح کرتا ہے، یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ امید صرف اسی ذات سے وابستہ کی جائے جو غیروں کے دلوں میں اپنوں کی سی محبت پیدا کرنے پر قادر ہے ۔
سخت حالات ہمیں بکھیرنے نہیں آتے، بلکہ ہمیں صبر، استقامت اور توکل کا درس دینے آتے ہیں ۔
بکھرے لمحوں کی دبی دبی سسکیاں اکثر ایک مضبوط، پختہ اور خوبصورت شخصیت کی تعمیر کر رہی ہوتی ہیں ۔
اس لیے اگر آج زندگی نے آپ کو تنہا کر دیا ہے تو مایوس نہ ہوں ۔
ممکن ہے آپ کو چھوڑا نہیں گیا، بلکہ تیار کیا جا رہا ہو ۔
کیونکہ وہ جب کسی کو نمایاں کرنا چاہتا ہے ،تو پہلے اسے تنہا کر دیتا ہے ۔
تحریر : سویرا ثاقب
22 جون 2026
کراچی پاکستان