ستارے اندھیروں سے نہیں ڈرتے ۔

مجھے قریباً ڈھائی تین سال ہو گئے تحریریں لکھتے ہوئے ،میں اپنی ممکن کوشش کے باوجود بھی ایک موضوع منتخب نہیں کر سکی ۔
کسی ایک موضوع پر مسلسل میرا قلم رواں ہی نہیں ہوتا ۔

جہاں میرا قلم دین بیزار اور محرم سے نجات مانگنے والی عورت کو انجام سے آگاہ کرتا ہے ،وہاں چار دیواری سے محبت کرنے والی اپنے محرم کے ہاتھوں قبر میں اترنے والی عورت کی قدر کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔

جہاں میرے قلم کی سیاہی مرد کی قربانی کا احساس دلاتی ہے، وہیں “بھروسہ” لفظ کو صرف محرم سے منسوب کرتی ہے ۔

جہاں یہ قلم حالاتِ حاضرہ پر درد لکھتا ہے ، وہاں یہ خودی کو بیدار کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے ۔

جہاں یہ ماں باپ جیسے محسنوں کی خدمت کا درس دیتا ہے، وہاں والدین کو آگاہ کرتا ہے ،کہ ان کے غلط فیصلے یا عدم برداشت اولاد کی زندگی کا شیرازہ ہی بکھیر دے گی ۔

جہاں یہ توکل کا پیغام دیتا ہے، وہیں ہمت اور جستجو پر آمادہ بھی کرتا ہے ۔

جہاں یہ کامیابی اور مقصدِ حیات کا پیغام دیتا ہے، وہیں مقصدِ حیات کو دنیاوی اچیومنٹ سے نہیں بلکہ آخرت کی ابدی کامیابی سے جوڑتا ہے ۔

تو طے یہ پایا کہ معاشرت پر لکھا جائے، جو کہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور بہترین صدقۂ جاریہ بھی ۔

اللّٰہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر دانی ،اور شکر گزاری میں سے ایک ،اپنی صلاحیت اور خوبی کا بہترین استعمال ہے ۔

اگر اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو بولنے کی صلاحیت دی ہے، تو آپ اپنی پُر اثر گفتگو سے لوگوں کو اس کے خالق سے جوڑیں ۔

اگر آپ اچھے مصور ہیں، تو آپ اپنی بنائی ہوئی تصاویر سے امید اور توکل کا پیغام دے سکتے ہیں ۔

اگر آپ اچھے لکھاری ہیں، تو آپ کے الفاظ آگہی اور بیداری کا سبب بن سکتے ہیں ۔

اللّٰہ نے کسی بھی انسان کو بے مقصد پیدا نہیں کیا، ہر انسان کو صلاحیت اور خوبیاں عطا کی ہیں ۔

مقصد حیات پا لینے کیلئے انسان کو پہاڑوں میں گوشہ نشینی اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ،بلکے مقصد حیات کے حصول کے لیے اپنی نیت اللّٰہ کی رضا بنا لینا اور اللّٰہ کی عطا کردہ صلاحیت کو اس کی راہ میں استعمال کرنا ہے ۔

(purpose of life)جب وہ ہم پر
کو واضح کر دے ، تو پھر ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اِک ذرّہ ہیں ۔

وہ ذرّہ جو ہماری نظر میں بے وقعت ہوتا ہے، اگر کسی آنکھ میں چلا جائے تو اس آنکھ کے تمام مناظر دھندلا جاتے ہیں ۔

تاریک رات میں آسمان پر بکھرے ستارے آسمان کی تاریکی کو روشنی بخشتے ہیں ۔

اصلاح کرنے والے، راستہ دکھانے والے یا مقصد سے
آگاہ کرنے والے لوگ ستاروں کی مانند ہیں ۔

اگر ہر ستارہ یہ سوچے کہ میرے چمکنے سے کون سا آسمان کی تاریکی پر اثر پڑے گا، تو تاریکی آسمان کا مقدر بن جائے گی ۔

ہر ستارہ آب و تاب سے چمکتا ہے اور پھر آسمان کی تاریکی جاتی رہتی ہے ۔

بے قابو حالات کی مثال آگ کی سی ہے جس نے چاروں اطراف سے جنگل کو اپنے حصار میں لے لیا تھا ۔

تمام جانور اپنی اپنی جان بچا کر بھاگ رہے تھے ۔

ایک معصوم چڑیا قریب چشمے سے اپنی چونچ میں پانی بھر کر لاتی اور لگی ہوئی آگ پر ڈالتی ۔

جانوروں نے اس کا مذاق اڑایا ۔

کیا تمھارے ایک قطرے سے فرق پڑے گا ؟

اس کا جواب بڑا زبردست تھا ۔

کہنے لگی، کم از کم اللّٰہ کی عدالت میں تو سرخرو ہو جاؤں گی ۔

ان کی فہرست میں شامل تو نہیں ہوں گی جنہوں نے کوشش ہی نہیں کی، جنہوں نے جنگل کو جلتے رہنے دیا ۔

کچھ بھی ہو جائے، خود کو حقیر نہ جانیں، خود کو بیکار نہ جانیں، اپنے حصے کا بہترین معاشرے کو دے کر جائیں ۔

ہر ایک کی اپنی قبر ہے، اپنا اعمال نامہ ہے ۔

آپ نے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے ۔
یاد رہے ، ایک قطرہ اگر پتھر پر مسلسل ٹپکتا رہے ، تو ایک روز پتھر میں دراڑ پڑ جاتی ہے ۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

تحریر۔۔۔۔۔۔ سویرا ثاقب

28/06/2026
کراچی پاکستان

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

‎ پہلی تحریر میں نے کراچی کے خستہ حال پر لکھی تھی ۔‎‎یہ حقیقت ہے کہ کراچی پاکستان کا وہ...
تبدیلی کا سفر ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ اگر میں کہوں کہ میرے ایک بدلنے سے کون...
‎فیمنزم اور لبرل ازم صرف اُس مرد کی بات کرتے ہیں جو تربیت یافتہ نہیں ،اور جو اپنی زمہ داریوں...
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو لاغر، کمزور، بے بس اور مکمل طور پر ماں کی آغوش کا محتاج...