سن 2022 کی بات ہے، میں کراچی، گرین ٹاؤن میں رہ رہی تھی۔ میری ایک ہمسایہ خاتون جلدی میں میرے دروازے پر آئیں۔ گھبراہٹ میں کہنے لگیں:
“مجھے ایمرجنسی میں ہسپتال جانا ہے، آنے میں دیر ہو جائے گی۔ میری بیٹی ابھی اسکول سے واپس آئے گی۔ سالن بنا ہوا ہے لیکن اسے روٹی بنانی نہیں آتی۔ اگر آپ اس کے لیے روٹی بنا دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔”
میں نے کہا:
“ٹھیک ہے، آپ بے فکر ہو جائیں۔”
مگر میں حیران تھی کہ ان کی بیٹی ماشاءاللّٰہ میٹرک کی طالبہ تھی، صحت مند، سمجھدار اور بالکل نارمل بچی تھی، مگر اسے روٹی بنانی نہیں آتی تھی۔
خیر، میں نے حامی بھر لی ،جب وہ بچی اسکول سے واپس آئی تو میں نے اس کے لیے روٹی بنا دی۔ باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے پوچھ لیا:
“بیٹا، آپ نے روٹی بنانا کیوں نہیں سیکھا؟”
وہ مسکرا کر بولی:
“آپی، میرا تو دل کرتا ہے گھر کے کام کروں، مگر ماما مجھے کام کرنے ہی نہیں دیتیں۔ مجھے چولہا جلانا نہیں آتا، مجھے ڈر لگتا ہے۔ ماما ہی کھانا بنا کر دیتی ہیں۔”
اس کی بات سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں سوچنے لگی کہ اگر ایک صحت مند اور بڑی بچی اپنے لیے مشکل وقت میں ایک روٹی بھی نہ بنا سکے تو یہ جسمانی معذوری نہیں بلکہ تربیتی معذوری ہے۔
بچوں کو کام سے بچاتے رہنا محبت نہیں بلکہ ان کے ہاتھ باندھ دینے کے مترادف ہے۔ محبت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم بچوں کو زندگی کی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں سکھائیں تاکہ کل کو وہ زندگی کے بڑے امتحانوں میں خود کو سنبھال سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جو بچے چھوٹے کام نہیں سیکھتے، وہ بڑے فیصلوں میں بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔
آج جب میں اپنے اردگرد کے بچوں اور بچیوں کو دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں کسی چیز کی سب سے زیادہ فکر ہے تو وہ نمبروں کی ہے۔
زیادہ سے زیادہ نمبرز آئیں…
اچھے گریڈز آئیں…
اور والدین کا سر فخر سے بلند ہو جائے۔
بدقسمتی سے (Merit System) نے نمبروں کے پیچھے بچوں کی ایسی دوڑ لگا دی ہے کہ وہ زندگی جینے کا ڈھنگ ہی بھول گئے ہیں۔ انہیں سلیقۂ زندگی سکھانے کے بجائے صرف کتابوں کا بوجھ تھما دیا گیا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے میں
(Leaders) اور (Problem Solvers)
آنا کم ہو گئے ہیں۔
ہارورڈ کی ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو اپنے گھروں کے چھوٹے موٹے کام خود کرتے ہیں، زندگی میں زیادہ آگے بڑھتے ہیں۔ کیونکہ ایسے بچے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنا سیکھتے ہیں، حل تلاش کرنا سیکھتے ہیں، اور یہی عمل ان کی
(Creativity)
اور اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں بچے کام نہیں کرتے اور والدین انہیں کرنے بھی نہیں دیتے۔ یوں ہم انجانے میں ان کی صلاحیتوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔
ہارورڈ کی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ بچے جو بچپن ہی سے مسائل کا سامنا کرتے اور انہیں حل کرتے آتے ہیں، آگے چل کر مضبوط (Leaders) بنتے ہیں۔ کیونکہ جب مسئلوں کا قد بڑھتا ہے تو اسی حساب سے وہ اپنے اندر حل تلاش کرنے کی صلاحیت بھی بڑھا لیتے ہیں۔
اسی طرح (Empathy) بھی (Leadership) کی ایک بڑی خوبی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں والدین اپنے دکھ اور پریشانیاں بچوں سے چھپا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر بچوں کو مسائل کا پتہ چلا تو وہ ڈر جائیں گے یا ان کی پڑھائی متاثر ہو جائے گی۔
یوں بچوں کے سامنے زندگی کا صرف ایک مصنوعی خوشحال چہرہ رکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے حقیقی زندگی کے بجائے خیالی دنیا میں جینے لگتے ہیں۔
لڑکے فلمی کرداروں کو اپنا
(Role Model)
بنا لیتے ہیں، اور لڑکیاں سنڈریلا جیسی زندگی کے خواب دیکھنے لگتی ہیں۔
والدین انہیں حقیقی زندگی کے میدان میں قدم ہی نہیں رکھنے دیتے۔ انہیں اس طرح سنبھال کر رکھا جاتا ہے جیسے وہ ہاتھ کا چھالا ہوں۔ انہیں زمانے کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے۔
والدین اس سوال پر غور نہیں کرتے کہ:
ان کے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا؟
وہ ہمیشہ تو ساتھ نہیں رہیں گے۔ اگر بچہ اپنی زندگی کے چھوٹے مسائل بھی خود نہ سنبھال سکے تو وہ دوسروں کے لیے کیسے سہارا بنے گا؟
ہمارے معاشرے میں ایک اور روایت بھی ہے۔ جب گھر میں کوئی اہم فیصلہ ہو رہا ہو تو بچوں کو نظروں ہی نظروں میں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے جائیں، یوں بچوں کو رائے دینے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں
(Self Confidence)
کی کمی ہو جاتی ہے اور
(Decision Making Ability)
کمزور پڑ جاتی ہے۔
مختصر یہ کہ ہم نے بچوں کو اس قدر کتابی کیڑا بنا دیا ہے کہ زندگی کے عملی میدان سے ان کا تعلق کمزور ہو گیا ہے۔
پڑھنا یقیناً ضروری ہے، آگے بڑھنا بھی ضروری ہے۔ لیکن اگر ہم بچوں کو ہر مشکل سے بچانے کے لیے ان کے گرد دیواریں کھڑی کر دیں اور زمانے کی سرد ہواؤں سے بچانے کے لیے ان پر کمبل ڈال دیں تو یہی چیز ان کے مستقبل کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔
کیونکہ جب انسان کو کبھی
(Decision Making)
(Risk Taking)
اور
(Problem Solving)
کا موقع ہی نہ ملے تو اس کے اندر موجود (Leadership) آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے۔
اور پھر معاشرہ شکوہ کرتا ہے کہ:
ہمارے پاس Leaders کیوں نہیں پیدا ہو رہے؟
ڈگریاں تو ہیں… مگر Leader کہاں ہیں؟
ہارورڈ کی تحقیق کے مطابق بچے سب سے زیادہ اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ والدین ہی ان کے پہلے استاد ہوتے ہیں اور گھر ہی ان کی پہلی درسگاہ۔
اگر والدین کے اندر صبر اور استقامت نہیں ہوگی، اگر وہ دوسروں کی مدد کرنے کا رویہ خود نہیں دکھائیں گے تو بچوں کو یہ باتیں سکھانا محض وقت کا ضیاع ہے۔
کیونکہ بچے نصیحت سے کم اور عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
اسی طرح جب بچوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کی ذمہ داری نہیں دی جاتی تو ان کے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا نہیں ہو پاتا۔
گھر کے چھوٹے کام دراصل بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی جینا متحرک لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔
(Leadership)
کی ایک بنیادی خصوصیت (Empathy) ہے۔ جب بچے دوسروں کے احساسات کو سمجھنا سیکھتے ہیں تو وہ دوسروں کی رہنمائی کرنے کے قابل بنتے ہیں۔
لیکن اگر وہ اپنے والدین میں ہمدردی، برداشت اور خدمت کا جذبہ نہیں دیکھتے تو یہ خوبیاں ان کے اندر بھی پروان نہیں چڑھتیں۔
ایک اور اہم پہلو غلطیوں سے سیکھنے کا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بچوں کو یہ نہیں سکھایا جاتا کہ غلطی کرنا انسانی فطرت ہے، انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ غلطی ہونی ہی نہیں چاہیے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ غلطی سے انسان سیکھتا ہے۔
اسی طرح بچوں کو فیصلہ کرنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا، انہیں کیا پہننا ہے، کس رنگ کے کپڑے پہننے ہیں، کب کھیلنا ہے، کب سونا ہے، کب پڑھنا ہے ، یہ سب فیصلے والدین خود کرتے ہیں۔
یوں بچے اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلے بھی خود نہیں کر پاتے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے اندر
(Self Confidence)
اور
(Decision Making)
کی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔
ہارورڈ کی تحقیق کے مطابق بچوں میں (Leadership Qualities) اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب:
انہیں ذمہ داری دی جائے
ان کی رائے کو اہمیت دی جائے
انہیں Challenges کا سامنا کرنے دیا جائے
لیکن جب ہم بچوں کو ہر مشکل سے بچاتے ہیں اور ہر فیصلہ ان کی طرف سے خود کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے پاس بظاہر ڈگری یافتہ لوگ ہوتے ہیں، مگر Leaders نہیں ہوتے۔
ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے مگر Risk Taking کی ہمت نہیں ہوتی۔
ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے مگر Decision Making کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے لیکن کوئی واضح Aim اور Vision نہیں ہوتا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے دل میں اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کی بھلائی کے لیے سوچنے کا جذبہ بھی کمزور ہوتا ہے۔
ہمیں لوگوں کی نہیں… قابل لوگوں کی ضرورت ہے۔
وطنِ عزیز کو صرف ڈاکٹرز اور انجینئرز کی نہیں بلکہ قابل اور ذمہ دار ڈاکٹرز اور انجینئرز کی ضرورت ہے۔
ہمیں ہر فیلڈ میں تجربہ کار اور قابل لوگوں کی ضرورت ہے ،اس ملک کو تعداد نہیں چاہیے بلکہ صلاحیت، کردار اور قابلیت چاہیے۔
اور قابلیت صرف کتابیں پڑھ لینے سے پیدا نہیں ہوتی ،قابلیت تب پروان چڑھتی ہے جب بچوں کی بہترین تربیت اور بہترین ذہن سازی کی جائے۔
جب بچوں کو خود شناسی کا شعور دیا جائے۔
جب انہیں خدا شناسی کا علم دیا جائے۔
جب ان کے اندر (Leadership Qualities) پیدا کی جائیں، کیونکہ وہی بچے آگے چل کر معاشرے کے معمار بنتے ہیں اور وہی قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔
اگر ہمارے بچوں کے اندر Leadership، بصیرت اور خدمت کا جذبہ ہوگا تو معاشرہ بھی ترقی کرے گا اور ملک و قوم بھی آگے بڑھے گی۔
ورنہ اس زمین پر بوجھ تو پہلے ہی بہت ہے۔
لہٰذا آئیں کوشش کریں کہ ہم اپنی اولاد کو محض ڈگریوں کا بوجھ اٹھانے والا انسان نہ بنائیں بلکہ انہیں ایسا انسان بنائیں جو اپنے وطن کے لیے کارآمد، مفید اور باکردار ثابت ہو۔
کیونکہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے پاس قابل، باشعور اور باکردار لوگ ہوتے ہیں۔