تحریر: سویرا ثاقب
ہمارے گھروں میں ایک مختصر سی تقریب بھی یوں ہی برپا نہیں ہوتی،سب سے پہلے اہلِ خانہ ایک دائرے میں بیٹھتے ہیں، مشورے ہوتے ہیں، ذمہ داریاں تقسیم کی جاتی ہیں، اور ہر فرد کو اس کے حصے کا کام سونپا جاتا ہے،تب جا کر وہ چھوٹی سی خوشی بھی حسنِ ،انتظام کے ساتھ اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے۔
تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اس
عظیم الشان کائنات کو بے مقصد اور حادثاتی سمجھ لیں؟
یہ آسمانوں کی رفعت، یہ زمین کی ترتیب، یہ دن اور رات کی گردش،کیا یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ ہو سکتے ہیں؟
اگر انسان ذرا سا ٹھہر کر غور کرے، تدبر کی آنکھ کھولے، تو اسے صاف دکھائی دے گا کہ اس کائنات کا ہر ذرّہ ایک منظم نقشے کے تحت رواں ہے۔
یہاں کچھ بھی بے ربط نہیں، کچھ بھی بے ترتیب نہیں ،ہر شے پہلے سے لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق اپنے وقت پر جلوہ گر ہوتی ہے، اور وہ ہستی جس نے یہ سب کچھ ترتیب دیا ،وہی سب سے بہترین منصوبہ ساز ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہمارے سامنے ہے ،کنویں میں دھکیلنے والے بھائیوں کو کیا خبر تھی کہ وہی اندھیرا مستقبل کی سلطنت کی سیڑھی بن جائے گا؟
انہیں کیا معلوم تھا کہ سازش کا بیج دراصل عزت و اقتدار کے درخت میں ڈھلنے والا ہے؟ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش میں بھی یہی حکمت پوشیدہ ہے، آگ میں پھینکنے والوں کو کب اندازہ تھا کہ وہی شعلے سلامتی کا لباس بن جائیں گے، کہ آزمائش عزت کا استعارہ بن جائے گی؟
یہی تو رب کی تدبیر ہے،وہ جسے ہم رکاوٹ سمجھتے ہیں، دراصل راستے کا حصہ ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو خود کو ہماری راہ کا کانٹا بنتے ہیں، وہی ہمیں ہماری منزل کے قریب تر کرنے کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔
اس کائنات میں کچھ بھی حادثاتی نہیں ،نہ مثبت واقعات، نہ منفی ، ہر خوشی، ہر آزمائش، ہر تاخیر، ہر محرومی،سب ایک عظیم منصوبے کے اجزاء ہیں۔
ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ یقین کے ساتھ سفر جاری رکھیں، کیونکہ جس نے کنویں کو بادشاہت کی تمہید بنایا، اور آگ کو سلامتی کا لباس پہنایا،وہ آج بھی اپنے بندوں کی تقدیر بہترین انداز میں رقم کر رہا ہے۔
جو لوگ ہماری راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، جو دوسروں کے دلوں میں ہمارے خلاف شک اور نفرت کے بیج بوتے ہیں،وہ انجانے میں ہمیں اُنھی لوگوں سے جدا کر رہے ہوتے ہیں جو ہماری منزل کی طرف بڑھتے قدموں کے لیے سب سے بڑی دیوار ثابت ہو سکتے تھے۔
انہیں گمان ہوتا ہے ،کہ وہ ہمیں تنہا کر رہے ہیں، ہماری ساکھ کو مجروح کر رہے ہیں، ہمارے گرد بداعتمادی کا حصار قائم کر رہے ہیں،مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ،وہ انجانے میں ہمارے لیے راستے صاف کر رہے ہوتے ہیں، ہمیں اُن بوجھل رفاقتوں سے آزاد کر رہے ہوتے ہیں جو بظاہر ساتھ تھیں مگر باطن میں ہماری رفتار کی دشمن تھیں۔
ان کی ہر منفی تدبیر، ہر بدگمانی، ہر سازش ہمارے لیے ایک مثبت پیغام میں ڈھل جاتی ہے۔ وہ جن الفاظ کو تیر سمجھ کر چھوڑتے ہیں، وہی ہمارے حق میں دلیل بن جاتے ہیں ۔
وہ جن تعلقات میں دراڑ پیدا کرتے ہیں، وہی دڑار ہمیں غیر ضروری تعلقات کی گرفت سے آزاد کر دیتی ہے۔
یوں ان کی ہر منفی حرکت، ہماری زندگی میں ایک مثبت موڑ بن جاتی ہے،ایک نئی راہ، ایک ہموار راستہ، جس کی خبر نہ انہیں ہوتی ہے اور نہ ابتدا میں ہمیں۔
اور تب ہمیں احساس ہوتا ہے،کہ جو ہمیں گرانا چاہتے تھے، وہی ہمارے اُٹھنے کا سبب بن گئے۔
انسان کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے منفی لوگ آئیں، یا وہ لوگ جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنیں، تو وہ گھبرائے نہیں۔
اس کے بجائے اسے اللّٰہ پر کامل توکل کرتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر چال جو وہ لوگ ہمارے خلاف چلیں گے، وہ بالآخر انہی پر الٹ کر آئے گی۔
ہر سازش، ہر منفی کوشش، ہر رکاوٹ ،یہ سب ہمارے لیے راستے ہموار کرنے کا ذریعہ بن جائیں گی، ہماری آسانیوں کا سبب بنیں گی، اور ہمارے راستوں کی کشادگی کا باعث ہوں گی۔ اگر ہمارا دل نیک نیت اور اخلاص سے بھرا ہوا ہے، اور ہم نے اپنے قدموں کو سچائی اور صداقت کے ساتھ آگے بڑھانے کا عزم کر لیا ہے، تو اللّٰہ تعالیٰ ہر منفی چال کو ہمارے حق میں بھلائی میں بدلنے کی قدرت رکھتا ہے۔
یہی تو ایمان کی طاقت ہے، اللّٰہ چاہے تو شر میں بھی خیر نکال دیتا ہے، اور وہ جو ہمیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہی ہمارے لیے بھلائی اور کامیابی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
ہر انسان کی زندگی میں مثبت اور منفی لوگوں کا ایک بڑا مجمع ہوتا ہے، لیکن کامیاب وہی ہوتا ہے جو منفی لوگوں کی سازشوں اور منفی اقدامات پر خوفزدہ نہ ہو۔
جو جانتا ہو کہ ہر طرف کے حالات، ہر خوشی اور ہر دکھ، سب کچھ اللّٰہ کے اختیار میں ہے۔ جو شخص اس سچائی پر پختہ یقین رکھتا ہے، وہ ہر رکاوٹ، ہر بدگمانی، ہر سازش کو ٹھوکر مار کر آگے بڑھتا ہے۔
وہ الجھتا نہیں، پریشان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سب کچھ اللّٰہ کے اختیار میں ہے۔
راستوں کی کشادگی بھی، مشکلات کی سختی بھی، کامیابی بھی اور ناکامی بھی۔
اللّٰہ ہی ہے جو ہر راستے کو سنوارنے والا ہے، اور جس پر اللّٰہ کا کرم ہو، اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی پیغمبر ایسا نہیں جس کے سامنے منفی لوگ نہ آئے ہوں۔
ہر پیغمبر، ہر برگزیدہ ہستی جس نے سچائی کی بات کہی، شعور کی روشنی دلائی، معاشرے کو بیدار کرنے کی کوشش کی، اس کے مخالفین ضرور پیدا ہوئے۔
لیکن وہ ہر رکاوٹ کے باوجود اپنے مقصد کی طرف بڑھتے رہے، قدم نہیں روکے، اور بالآخر حق کی روشنی نے سب پر غالب آ کر معاشرے کو روشن کر دیا۔
اسی لیے انسان کو ہمیشہ یہ عزم کرنا چاہیے کہ وہ جس راہ پر چل نکلا ہے، اگر وہ حق کی راہ ہے، تو کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اللّٰہ پر توکل کرتے ہوئے قدم آگے بڑھاتا رہے، کیونکہ ایک دن سچائی کی آواز بلند ہو کر ہی رہتی ہے، اور وہی روشنی ہر ظلمت کو مٹا دیتی ہے۔
اور یاد رکھیں، جو لوگ آپ کے راستے میں منفی سوچ لیے آپ کو گرانے کے اقدامات رکھتے ہیں، وہ بھی اس عظیم کھیل کا حصہ ہیں، تاکہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے امتحان اور ترقی کے عمل کو مکمل کرے۔
اس لیے دل برداشتہ نہ ہوں، اگر آپ کسی مقصد کے لیے نکلے ہیں، اگر آپ کے پاس کوئی وژن ہے، کوئی اعلیٰ ہدف ہے جو ذاتیات سے بلند ہے، تو یہ یقینی ہے کہ آپ کو مثبت اور منفی دونوں طرح کے لوگوں کا سامنا ہوگا۔
ہر طرح کے مزاج آپ کے راستے میں آئیں گے، ہر قدم پر رکاوٹیں کھڑی ہوں گی، ہر دفعہ آپ کو تکلیف اور تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن جو شخص سچائی کے راستے پر ہوتا ہے، وہ دل بڑا رکھتا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جس کے لیے عظیم منزل کا ارادہ کر لیتا ہے، اسے اسی طریقے سے آزمایا جاتا ہے۔ اس کے راستے میں بے شمار رکاوٹیں آئیں گی، آزمائشیں آئیں گی، منفی لوگ روڑے اٹکائیں گے، تکلیفیں دیں گے، الزامات لگائیں گے، مگر کامیاب وہی ہے جو پختہ یقین اور اللّٰہ پر کامل بھروسے کے ساتھ اپنے قدم جمائے رکھتا ہے۔
ایسا انسان مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے، اور اس کی زندگی کے اثرات نسل در نسل چلتے رہتے ہیں