نیٹ ورک کی اس اندھی اور پُر فریب دنیا میں اب کوئی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا، ہر ہاتھ میں ٹچ موبائل ہے، ہر گھر میں وائی فائی کی رسائی ہے، اور ہر شخص سوشل میڈیا کے آئینے میں اپنی ذاتی زندگی کو سجا کر پیش کرتا دکھائی دیتا ہے ،ہر چہرہ فلٹر کی تہوں میں چھپا ہوا ہے اور ہر زندگی مصنوعی رنگوں میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے، جہاں حقیقت کم اور نمائش زیادہ ہے۔
یہ رجحان نہ صرف معاشرے میں محرومی اور احساسِ کمتری کو فروغ دے رہا ہے ،بلکہ آہستہ آہستہ ہمارے ایمان اور دینی اقدار کو بھی متاثر کر رہا ہے ،دینِ اسلام جس میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے،اور دکھاوے سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے،دینِ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اپنی نعمتوں کو فخر اور نمائش کا ذریعہ نہ بنایا جائے ،دینِ اسلام میں اس کی اجازت نہیں کہ گھر کی خواتین یا گھریلو معاملات کو سرِ بازار تماشا بنا دیا جائے، مگر افسوس کہ آج یہ حدیں تیزی سے مٹتی دیکھائی دے رہی ہیں۔
اب جب بھی ہم اس فلٹر زدہ دنیا میں قدم رکھتے ہیں، موبائل اسکرین آن کرتے ہیں اور کسی ایپ کو کھولتے ہیں تو عجیب و غریب مناظر اور خبریں سامنے آتی ہیں۔ کہیں کوئی شخص اپنی ذاتی اذیت کو تماشہ بنا رہا ہوتا ہے، کہیں نام نہاد مشہور شخصیات اپنے گھریلو جھگڑوں کو ویڈیوز کی صورت میں پیش کر رہی ہوتی ہیں، اور کہیں شہرت کی دوڑ میں ہر سنجیدگی پسِ پشت ڈالی جا رہی ہے ، اس سوشل میڈیا کی دنیا میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے دکھ، خوشی، رشتے اور انسانی وقار کو مجروح کر دیا ہے۔
یہ وقت رک کر سوچنے کا ہے کہ ہم حقیقت میں زندگی گزار رہے ہیں یا محض ایک مصنوعی اسکرین کے کردار بن چکے ہیں۔
ایک بوڑھے شخص کی کم عمر دوشیزہ سے شادی، کسی ٹک ٹاکر کی اچانک وفات، کسی یوٹیوبر کا بیرونِ ملک چلے جانا ،یہ سب خبریں آج ہماری توجہ کا مرکز بن چکی ہیں ،سوال یہ ہے کہ ہم کب ان سطحی موضوعات کے ہجوم سے نکلیں گے؟
کب ہر واقعے کو محض “کانٹینٹ” بنانے کی اس عادت سے خود کو آزاد کریں گے؟
اور کب حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی زمہ داری کو پہچانیں گے؟
ہم دوسروں کی زندگیوں کے پردے اٹھانے میں مصروف ہیں، مگر اپنی ذات کے احتساب سے کیوں غافل ہیں؟
ہم دوسروں کے معاملات پر تبصرے تو کرتے ہیں، مگر اپنے ایمان، اپنے کردار اور اپنے دین کی فکر کب کریں گے؟
آخر کب ہم رک کر سوچیں گے کہ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟
یہ دور فتنوں کا دور ہے، جہاں برائی کو خوبصورت رنگوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور سنجیدگی کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے،دنیا بھر میں ایسے رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے جو انسان کو حقیقت سے دور اور ظاہری چمک دمک کے قریب لے جائیں،سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کھیل کو سمجھ رہے ہیں؟
کیا ہم اپنی نسلوں کے مستقبل کے لیے فکرمند ہیں؟
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہر مومن پر حق اور سچ کو پھیلانے کی زمہ داری بھی ہے؟
کیا ہم نے خود سے پوچھا کہ ہم اس زمہ داری کو کس حد تک نبھا رہے ہیں؟
ہم کب ان غیر ضروری ترجیحات سے نکل کر اصل مقصد کو پہچانیں گے؟
کب ہم یہ تسلیم کریں گے کہ ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے؟
کب ہم شعور کی آنکھ کھول کر اس جال کو پہچانیں گے جو ہماری توجہ، ہمارے وقت اور ہمارے فکر کو الجھائے ہوئے ہے؟
اور سب سے اہم سوال ،کب ہم بیدار ہوں گے؟
دینِ اسلام یوں ہی ہم تک نہیں پہنچا؛ اس کے پس منظر میں بے شمار قربانیاں، لازوال جدوجہد اور ایمان افروز واقعات سے بھری ایک عظیم تاریخ موجود ہے۔
اس دین کے دفاع، اس کے اصولوں کی حفاظت اور اس کی سچائی کو زندہ رکھنے کے لیے ہر دور میں اہلِ ایمان نے اپنا کردار ادا کیا ہے، اور آج یہی زمہ داری ہمارے کاندھوں پر بھی ہے۔
ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بچانا ہوگا، ہمیں اپنے بچوں کو قرآن سے جوڑنا ہوگا، انہیں اللّٰہ پر توکل سکھانا ہوگا، اور سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کا شعور دینا ہوگا۔
ہمیں اپنی خواتین کو اس فتنہ انگیز نمائش کی دنیا سے نکال کر حقیقی میدانِ عمل میں کردار ادا کرنا سکھانا ہوگا، تاکہ وہ وقار، حیا اور مقصدیت کے ساتھ معاشرے کی تعمیر میں حصہ لے سکیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے دنیا میں جو عظیم فتوحات حاصل کیں، وہ محض طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور عدل کی بنیاد پر حاصل کیں۔ یہی وہ قوت تھی جس نے معاشروں کو بدلا اور دلوں کو فتح کیا ،مگر آج ہمارے کردار کو کھوکھلا کرنے کے لیے ہر سمت سے فکری اور اخلاقی حملے کیے جا رہے ہیں، تاکہ ہمارا شعور مدھم ہو جائے، ہمارے ضمیر سو جائیں اور ہم بے مقصدیت کی گہری کھائی میں گر جائیں ۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیوں ہمیں غیر ضروری تنازعات اور سوشل میڈیا کے شور میں الجھایا جا رہا ہے؟
کیوں ہم دوسروں کی غلطیوں کو تماشہ بنا دیتے ہیں؟
حالانکہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے اور کامل ذات صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ہے۔
کسی کی لغزش پر ہزاروں تبصرے، میمز اور ویڈیوز بنانا نہ اصلاح ہے نہ خدمت یہ محض وقت اور شعور کا ضیاع ہے۔
ہم کب اپنے اصل مقام کو پہچانیں گے؟
کب ہم حضرت محمد ﷺ کی سیرت سے اپنے کردار کو سنواریں گے؟
ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا معاشرے میں کیا کردار ہونا چاہیے، ہمیں اپنی زندگی کو کس سمت لے جانا ہے ،یہ سوالات ہم سے جواب مانگ رہے ہیں۔
کب ہم علامہ محمد اقبال کی خودی کو سمجھیں گے؟
ہمیں اپنے اداروں کو بہتر بنانا ہوگا، اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانا ہوگا، اپنی خواتین کو ان کے وقار سے آگاہ کرنا ہوگا، اپنے بچوں کو مقصدیت والی زندگی سکھانی ہوگی اور اپنے بزرگوں کے بڑھاپے کو عزت دینا ہوگی۔
ہمیں معاشرے میں پھیلی برائیوں کے خلاف شعور کی آواز بلند کرنی ہوگی اور اللّٰہ کی رضا کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنانا ہوگا۔
رہنمائی کے دروازے بند نہیں ہیں ،علما اپنی زمہ داری ادا کر رہے ہیں، مگر رسی پکڑ کر اوپر آنا ہمیں خود ہوگا۔ اصلاح کا آغاز اپنے اندر سے کرنا ہوگا، اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہوگا اور دین کے راستے پر ثابت قدمی اختیار کرنی ہوگی۔
اگر ہم نے اب بھی غفلت اختیار کی تو خسارہ ہمارا مقدر بن سکتا ہے،ایسا خسارہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ لیکن اگر ہم بیدار ہو جائیں، اپنے ایمان اور کردار کو مضبوط کر لیں، تو یہی فکر ہماری اصلاح اور کامیابی کا ذریعہ
بھی بن سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کا جال اور ہماری ترجیحات
- Home
- سوشل میڈیا کا جال اور ہماری ترجیحات
Sawera Saqib is a writer and thinker with a deep spiritual vision. Her first work, “Sabghatullah”, invites hearts to turn towards Allah. Her writings are rooted in purity of intention, self-awareness, and character-building, presented in a simple yet profoundly touching style.
Explore
Contact Info
Copyright 2026 Sawera Saqib | All Rights Reserved
Login with your site account
Not a member yet? Register now
Register a new account
Are you a member? Login now