حدودِ الٰہی اور ہماری نسل کا مستقبل

  • March 3, 2026

ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے افسوسناک واقعات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہر دن انسانیت کے نام پر نئے زخم لگتے ہیں، ہر دن کئی گھروں کی عزتیں پامال ہوتی ہیں، اور ہر دن ظلم و ستم کی تاریکی معاشرے کو مزید اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آخر ہم کب جاگیں گے؟
کب ہمارے ضمیر کی نیند ٹوٹے گی؟
ہم اپنی عزت کی فکر تو کرتے ہیں، مگر اپنے اردگرد بسنے والوں کے دکھ سے کیوں بے خبر ہو جاتے ہیں؟
کسی کی بیٹی پر سانحہ گزر جاتا ہے، کسی گھر پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے، کسی مظلوم پر ظلم ڈھایا جاتا ہے، اور ہم اسے “اس کا ذاتی مسئلہ” سمجھ کر خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔
ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا اور آزمائش کا دروازہ کسی بھی گھر پر دستک دے سکتا ہے؟
اگر آج ہم دوسروں کے درد کو اپنا درد نہ سمجھیں گے تو کل ہمارے آنسو بھی اسی بےحسی کے ہجوم میں گم ہو جائیں گے۔
قصور کے علاقے آلہ آباد میں پیش آنے والا واقعہ ہمارے لیے ایک گہرا لمحۂ فکریہ ہے۔ محبت واقعی اندھی ہوتی ہے، اور کم عمری کی محبت میں جذبات اکثر عقل پر غالب آ جاتے ہیں۔
کم عمر لڑکے اور لڑکیاں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اگر ایک شخص نہ ملا تو زندگی بے معنی ہو جائے گی اور دنیا ویران ہو جائے گی۔
یوں ان کے ذہن میں صرف دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو وہ شخص مل جائے، یا مایوسی انہیں تباہی کی طرف لے جائے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت میں ناکامی کے بعد کئی افسوسناک واقعات ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ایسے حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو زندگی کے اصل مفہوم سے آشنا کریں۔
انہیں یہ سکھائیں کہ زندگی صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ مقصد، کردار اور شعور کا سفر ہے۔
بچوں کی زندگی میں مقصدیت پیدا کی جائے تاکہ وہ وقتی جذبات کے بجائے مضبوط فکر کے ساتھ فیصلے کرنا سیکھیں۔
موجودہ دور میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کا ماحول تیزی سے بدل رہا ہے، اس لیے نوجوانوں کو مضبوط ذہن سازی اور بہترین تربیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کا تعلق اللّٰہ سے مضبوط کریں، انہیں حلال و حرام کی پہچان سکھائیں، اور یہ سمجھائیں کہ اگر دل میں کسی کے لیے جذبات پیدا ہو بھی جائیں تو حدودِ الٰہی کو کبھی نہ توڑیں، کیونکہ جب انسان ان حدود کو پامال کرتا ہے تو انجام اکثر ذلت اور رسوائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
خصوصاً بچیاں جذباتی طور پر زیادہ حساس ہوتی ہیں، اس لیے انہیں مضبوط کردار، صبر اور خود اعتمادی کی تربیت دینا نہایت ضروری ہے۔
یہاں ایک ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ماں اپنی بیٹی کی دوست بن جائے، اس کے جذبات کو سمجھے اور اسے درست سمت دکھائے تو بہت سے خطرات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
کم عمر لڑکے اور لڑکیاں معاشرتی پیچیدگیوں سے ناواقف ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جو زندگی بھر کی اذیت بن جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دین، شعور اور مقصد سے جوڑیں۔
انہیں یہ سکھائیں کہ انسانوں کی محبت سے بڑھ کر اللّٰہ کی محبت ہے۔
جب دل میں اللّٰہ کی محبت مضبوط ہو جاتی ہے تو انسان خود کو ہر غلط راستے سے بچانا سیکھ لیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر بچیاں جذباتی طور پر نہایت حساس ہوتی ہیں ، وہ جلد متاثر ہو جاتی ہیں، جلد اعتماد کر لیتی ہیں، اور بعض اوقات وعدوں اور الفاظ کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔
جب کم عمری کے جذبات کو محبت کا نام دے دیا جاتا ہے تو بغیر سوچے سمجھے ذاتی معلومات اور تصاویر شیئر کرنے جیسی غلطیاں بھی سرزد ہو جاتی ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے بلیک میلنگ کا خطرناک سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ابتدا ہی سے یہ شعور دیا جائے کہ حقیقی عزت یا ذلت کسی انسان کے اختیار میں نہیں، یہ اختیار صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے ،وہی عزت دینے والا ہے اور وہی آزمائشوں سے نکالنے والا ہے۔
بچوں کو سکھایا جائے کہ اپنی آبرو اور وقار کی حفاظت کریں، کیونکہ یہی ان کا اصل سرمایہ ہے، جذبات وقتی ہوتے ہیں مگر کردار اور عزت پوری زندگی کا اثاثہ ہوتے ہیں۔
اور اگر خدانخواستہ کبھی کمزوری کے لمحے میں کوئی غلطی ہو بھی جائے تو سب سے پہلے اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لیا جائے، ان سے کچھ نہ چھپایا جائے۔
والدین اپنی بچیوں کو اعتماد دیں، ان کے دل تک رسائی حاصل کریں اور ان کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کریں۔
اگر موبائل یا سوشل میڈیا تعلیم کی سہولت کے لیے دیا جائے تو اس کے محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال کا شعور بھی ضرور دیں۔
ان کے صرف سرپرست نہ بنیں بلکہ ان کے رازدار بھی بنیں، تاکہ وہ اپنے جذبات اور مسائل بلا خوف آپ سے بیان کر سکیں۔
انہیں تنہائی اور بےبسی کے احساس میں نہ چھوڑیں، کیونکہ یہی خلا اکثر غلط راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔
محبت، رہنمائی اور نگرانی کا متوازن انداز ہی ان کی شخصیت کو مضبوط اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

پیسہ کمانا کوئی بڑی بات نہیں،اصل کمال تو بندے کمانا ہے۔ہم اکثر نادانی کر بیٹھتے ہیں؛ مادی چیزوں کو سمیٹنے...
نیٹ ورک کی اس اندھی اور پُر فریب دنیا میں اب کوئی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا،...
وہ دھیمے دھیمے قدموں سے باغیچے کی طرف چلتے ہوئے انجانے خیالوں میں گم تھی۔اسے یوں محسوس ہو رہا تھا...
کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کوئی اور نہیں، خود انسان ہوتا ہے۔وہ دیواریں جو ہمیں آگے بڑھنے...