وہ دھیمے دھیمے قدموں سے باغیچے کی طرف چلتے ہوئے انجانے خیالوں میں گم تھی۔
اسے یوں محسوس ہو رہا تھا ،جیسے زندگی اپنی پوری روانی کے باوجود اس کے لیے کہیں ٹھہر سی گئی ہو۔
وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا، مگر اس کے احساسات کسی گزرے لمحے کی دہلیز پر بیٹھے تھے۔
ماضی کا بوجھ آہستہ آہستہ اس کے دل پر اتر رہا تھا ،ناامیدی کی اِک ہلکی سی دھند اس کے باطن کو ڈھانپتی جا رہی تھی۔
اسے لگا جیسے زندگی کی رفتار صرف دوسروں کے لیے ہے، اُس کے لیے نہیں۔
چلتے چلتے وہ باغیچے کے قریب جا پہنچی ،سر اٹھا کر جب اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ گویا دنیا بھر کا سکون آسمان نے اپنی وسعت میں سمیٹ رکھا ہے۔
نیلے آسمان میں اِک عجب سا اطمینان تھا، جو دل کے شور کو دھیرے دھیرے کم کرنے لگا۔
اسی لمحے اس کی نگاہ چند پرندوں پر جا ٹھہری ، وہ تیزی سے زمین کی طرف جھکتے اور پھر عین وقت پر اپنے پروں کو پھیلا کر نئی بلندی کی طرف پرواز کر جاتے۔
کیا دلکش منظر تھا! زمین کی طرف ان کا جکھنا ہار کی علامت نہیں تھا، بلکہ ایک اور زیادہ پُراعتماد اڑان اِک نئی بلندی کو چھونے کا عزم تھا۔
وہ دیر تک اس منظر کو دیکھتی رہی ،اسے یوں محسوس ہوا جیسے فطرت اُسے کوئی سبق دے رہی ہو۔
شاید کبھی کبھی ٹھہر جانا، زمین کے قریب آ جانا، یا ماضی کی گرد میں کچھ لمحوں میں کھو جانا دراصل اگلی مضبوط اور باوقار پرواز کی تیاری ہوتی ہے۔
جلد ہی وہ باغیچے میں رکھے ایک بینچ پر جا بیٹھی، بیٹھتے ہی اس کی نظر سامنے کھڑے ایک وسیع و عریض درخت پر پڑی، جس نے اپنی گھنی شاخوں اور پھیلے ہوئے سائے میں دو بینچوں کو سمیٹ رکھا تھا۔
اس درخت کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے خاموشی سے خدمت کرنا ہی اس کی فطرت ہو، بغیر آواز کے، صلے کی پروا کیے بغیر ،مگر سراپا فیض۔
کچھ ہی دیر میں ایک شخص آ کر اسکے سائے تلے بینچ پر بیٹھ گیا،وہ بے اختیار درخت کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔
اس کے دل میں یہ خیال آیا ،کہ یہ کس قدر کشادہ دل ہے،خود دھوپ میں کھڑا رہتا ہے اور دوسروں کو ٹھنڈک عطا کرتا ہے۔
اس کی شاخیں ہوا کے ساتھ ہلکی ہلکی جنبش کر رہی تھیں، جیسے مسکرا کر اپنی موجودگی کا اقرار کر رہی ہوں۔
مگر یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک شخص آیا، اس کے ہاتھ میں کچھ وزنی سامان تھا۔
پھر اچانک ایک کرین اور بھاری مشینری وہاں آن پہنچی، لمحوں میں فضا کا رنگ بدل گیا،دھات کی آوازیں، مشینوں کی گرج، اور پھر… اس درخت کو کاٹنے کا عمل شروع ہو گیا۔
وہ حیران رہ گئی ، اس نے خود سے کہا ۔
آخر کیوں؟
یہ درخت تو اس جگہ کی زینت تھا، سایہ تھا، زندگی تھا۔
مگر بے حسی سے اُن ہاتھوں نے اس کے تنے کو کاٹنا شروع کر دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ سر سبز قامت درخت زمین بوس ہو گیا۔
مگر معاملہ یہیں ختم نہ ہوا، دو سے چار آدمی اکٹھے ہوئے اور اس کے گرد زمین کھودنے لگے، گہرا گڑھا بنایا گیا، اور بڑی مشقت سے اس کی جڑیں تک اکھاڑ دی گئیں، وہ جڑیں جو برسوں سے زمین میں پیوست ہو کر اس کو استحکام بخشتی رہی۔
حیرت، دکھ اور خاموش سوال اس کے چہرے پر ایک ساتھ نمایاں تھے، اس کے پاس صرف ایک سوال تھا ،کہ آخر کیوں بے دردی سے اسے مٹا دیا گیا؟
فضا میں اب خالی پن سا تھا، اور اس کے دل میں بھی۔
اس کی آنکھوں کے سامنے کا وہ منظر ابھی تازہ ہی تھا، ایک ہرا بھرا، سایہ دار درخت نہ صرف کاٹا گیا بلکہ اس کی جڑوں تک کو زمین سے نکال کر ایک بڑی گاڑی میں لاد دیا گیا۔
وہ دیر تک اسی جگہ بیٹھی سوچتی رہی، اس نے اپنے سائے میں بیٹھنے والوں کو سکون دیا، راحت دی ،حتیٰ کہ اُن ہاتھوں کو بھی ٹھنڈک عطا کی جو اسے جڑوں سمیت اکھاڑنے آئے تھے، جو اس کے وجود کو مٹا دینے پر آمادہ تھے۔
اس وقت اس پر یہ حقیقت آشکار ہوئی،کہ بافیض ہونا کتنا خوبصورت احساس ہے ۔
اس نے یہ دعا کی اے خالق تو مجھے بھی ایسا ظرف عطا کر دے کہ میں اُن لوگوں کے لیے بھی آسانی اور سکون کا سبب بن سکوں جو میرے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔
میرے دل کو حسد، کینہ، بغض اور خوف سے پاک کر دے، اور مجھے ایسا سایہ دار درخت بنا دے جو ہر آنے والے کو راحت دے،پناہ دے ۔
اس پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ اعلیٰ ظرف انسان اپنی ذات کے گرد دیواریں نہیں کھڑی کرتا،وہ خیرخواہی کو اپنا وصف بنا لیتا ہے۔
اسے اس بات کی فکر نہیں رہتی کہ کون اس کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کر رہا ہے، کون اس سے حسد کرتا ہے، کون اس پر الزام لگاتا ہے یا اس کے دل میں خوف کے بیج بونے کی کوشش کرتا ہے۔
قدرت با ظرف انسان کو اِک خاص تحفہ عطا کر دیتی ہے دوسروں کے لیے خیر کا جذبہ اور جب یہ جذبہ نصیب ہو جائے تو انسان اپنی ذات کے زخموں سے بلند ہو جاتا ہے۔
درخت کے وجود کے مٹ جانے کے بعد اسے یہ حقیقت پوری وضاحت سے سمجھ آ گئی کہ اصل بلندی وجود کے باقی رہنے میں نہیں، بلکہ ظرف کے وسیع ہونے میں ہے۔
ایک اعلیٰ ظرف انسان تمام تر تلخیوں سے آزاد ہو کر صرف خیر بانٹنے والا بن جاتا ہے۔