‎ مرنا آسان ہے مشکل تو جینا ہے

  • February 12, 2026

‎ ہمیں لگتا ہے کہ موت دشوار ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کی زندگی ایک کڑا امتحان ہے،مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے،اصل آزمائش تو یہی زندگی ہے،اصل امتحان تو سانسوں کا یہ مسلسل چلتے رہنا ہے۔
جینے کے لیے انسان کو محض سانس کافی
نہیں ہوتی،‎
زندگی کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ،اسے ہزاروں سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔
‎زندگی جینے کو چار دیواری بھی چاہیے،سر پر چھت بھی،خوراک بھی،پانی بھی،ہوا بھی۔
‎انسان فقط جسم نہیں،وہ جذبوں، احساسات اور تعلقات کا مجموعہ ہے۔
اسے دوست بھی چاہیے ،احباب بھی،دل سے جُڑی قربتیں بھی۔
‎جینے کے لیے اسے ایک کھلا اور وسیع آسمان بھی چاہیے
جہاں اسکی سانسیں آزاد ہو سکے اور آنکھیں خواب دیکھ سکے۔
‎اسے مال و متاع بھی چاہیے،عزت بھی،لوگوں کی محبت بھی،ماں باپ کا سایہ،بہن بھائیوں کی رفاقت بھی چاہیے۔
‎یہ زندگی آسائشیوں کی طلب گار بھی ہے ۔
‎اس کے باوجود ہم نے اپنے ذہن میں ایک الٹی گرہ باندھ رکھی ہے ،کہ مرنا مشکل ہےاور جینا آسان۔
حالانکہ جینے کے لیےہمیں ہزار ہیلے بہانے،ہزار قسم کی آسائشیں اور بے شمار ضروریات درکار ہوتی ہیں۔
زندگی کا نظام چلانے کے لیے ،ہم دن رات جدوجہد کرتے ہیں ،کھانے پینے کے انتظامات،اٹھنے بیٹھنے کے قرینے،پہننے اوڑھنے کی فکر،اور ان سب کے لیے
مسلسل مشقت اور کوشیش۔
‎جینے کی اس دوڑ میں ہم ہر طرح کے راستوں سے گزرتے ہیں،ہزار رنگ کے حالات،ان گنت معاملات اور نہ ختم ہونے والے امتحانات،یوں ہم اتنی محنت سے زندگی گزارتے ہیں ۔
‎حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب ہمیں معمول لگنے لگتا ہے،اور مرنے کا تصور ،ہمیں غیر معمولی حد تک مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
‎ہم یہ تو آسان سمجھتے ہیں کہ پوری عمر اسٹرگل کریں،
مشکلات اٹھائیں،زندگی کو کسی نہ کسی طرح گھسیٹتے رہیں ،مگر موت کی تیاری،آخرت کے لیے سامان جمع کرنا،نیک اعمال اختیار کرنا ،یہ سب ہمیں دشوار لگنے لگتا ہے۔
‎میرے خیال میں مرنا آسان ہے…بہت آسان۔
‎اگر انسان اپنی زبان کو نرم کر لے،اپنے اخلاق
‎نبی کریم ﷺ کی سیرت کے سانچے میں ڈھال لے،اگر دل، دماغ اور سر اللّٰہ تعالیٰ کے اطاعت
‎میں سرِ تسلیم خم کر دیں،اگر یہ دل خالق کی فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ مخلوق سے محبت کرنا سیکھ لے اگر زندگی کا ہر لمحہ ،موت کی تیاری میں گزرنے لگے ،اور موت کو نگاہ میں رکھ کر جیا جائے ،تو مرنا آسان ہو جاتا ہے،اور سب سے بڑھ کراس دنیا سے جانا آسان ہو جاتا ہے۔
اس دنیا سے جانے کے لیے نہ کسی مال و متاع کی ضرورت ہے،نہ کسی سرٹیفیکیشن کی۔
بس خوبصورت اعمال درکار ہیں ،خوبصورت اخلاق اور اللّٰہ کو راضی کرنے کی چھوٹی چھوٹی کوششیں ۔
‎مگر ہم نے مرنے کو مشکل بنا رکھا ہےاور جینے کو آسان ،اگر ہم چاہیں تو میں مرنے کو آسان بنا سکتے ہیں کم میں گزارا کر کے ،اس کی عطا پر راضی رہ کہ خواہشات پر قابو پا کہ اگر ہم چاہیں تو عارضی زندگی کے بدلے ابدی زندگی پا سکتے ہیں

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

پیسہ کمانا کوئی بڑی بات نہیں،اصل کمال تو بندے کمانا ہے۔ہم اکثر نادانی کر بیٹھتے ہیں؛ مادی چیزوں کو سمیٹنے...
نیٹ ورک کی اس اندھی اور پُر فریب دنیا میں اب کوئی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا،...
ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے افسوسناک واقعات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہر دن...
وہ دھیمے دھیمے قدموں سے باغیچے کی طرف چلتے ہوئے انجانے خیالوں میں گم تھی۔اسے یوں محسوس ہو رہا تھا...