تعلیم کا مطلب محض ڈگریوں کے انبار نہیں
بلکے تعلیم دراصل وہ شعور ہے ،جو انسان کو اچھے اور بُرے میں تمیز سکھاتا ہے،وہ بصیرت جو ہمیں انسانیت کے لیے جینے اور کچھ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، وہ آگہی جو ہمیں محض پڑھے لکھے نہیں بلکہ باصلاحیت اور بافیض انسان بناتی ہے۔
اگر کوئی تعلیمی نظام ہمیں شعور عطا نہیں کرتا،اگر وہ ہمارے اندر سوچنے، سوال کرنے اور ذمہ داری محسوس کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتا،تو پھر وہ تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ صرف اخراجات کی رسیدیں اور ڈگریاں بنانے والی صنعت ہے۔
ہمارے ہاں جب کسی بچے سے پوچھا جاتا ہے کہ“زندگی میں کیا بنو گے؟”
تو وہ بلا جھجک کہہ دیتا ہے: ڈاکٹر، انجینئر، پولیس افسر یا وکیل۔
لیکن جب اس سے پوچھا جائے کہ کیوں؟
تو یا تو وہ کسی ماموں، چچا یا جاننے والے کی مثال دے دیتا ہے،یا کسی وقتی شخصیت سے متاثر ہونے کا حوالہ دیتا ہے،یا پھر محض معاشرتی مزاج کے تحت ایک رٹا رٹایا جملہ دہرا دیتا ہے۔
یہاں المیہ یہ ہے کہ بچے کو سوچنا سکھایا ہی نہیں جاتا۔
اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کیوں بننا چاہتا ہے۔
اس کے پاس کوئی واضح مقصد نہیں ہوتا،کوئی نصب العین نہیں ہوتا،کوئی ویژن نہیں ہوتا کہ وہ ڈاکٹر کیوں بنے،وہ اس شعبے کا انتخاب کس ضرورت اور کس ذمہ داری کے تحت کر رہا ہوتا ہے۔
اسے یہ شعور نہیں دیا جاتا کہ۔
وہ ڈاکٹر بن کر قوم کو کیا فائدہ دے گا؟
کیا وہ انسانیت کی خدمت کرے گا؟
کیا وہ کسی کے علاج کو فری آف کاسٹ ممکن بنانا چاہتا ہے؟
وہ معاشرے میں ایسا کون سا کردار ادا کرنا چاہتا ہے
جس کی بنیاد پر وہ اپنے مستقبل کا اعلان کر رہا ہے؟
اصل تعلیم وہی ہے ۔۔۔
جو انسان کو سوچنے والا، محسوس کرنے والا اور ذمہ دار شہری بنائے۔
آج کا تعلیمی نظام بچے کے اندر نہ سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے، نہ سمجھنے کی،اور نہ ہی اسے ذمہ داری کا شعور عطا کرتا ہے۔
اور ذمہ داری کا احساس صرف کتابوں سے ممکن
۔ نہیں بلکے عملی تربیت سے جنم لیتا ہے
آج ایک بچہ جب اسکول سے گھر آتا ہے تواس کا لنچ باکس اس کی ماں بیگ سے نکالتی ہے،جوتے ترتیب سے رکھ دیتی ہے،کپڑے اتارتی، سکھاتی، استری کرتی ہے،اور بعض گھروں میں تو یہ مہربان ماں آٹھ دس سال کے بچے کو نوالہ بھی اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی ہوتی ہے۔
یہ سب بظاہر ممتا اور محبت کا خوبصورت اظہار لگتا ہے،مگر حقیقت میں یہی محبت اس بچے کو آہستہ آہستہ مفلوج کر رہی ہوتی ہے۔
جب کبھی حالات کی سختی آ پڑے،جب ماں کسی وجہ سے موجود نہ ہو،یا بیماری کے سبب بچے کو وہ آسانی نہ دے سکے،تو یہی بچہ بھوکا رہ جاتا ہے،کیونکہ اسے اپنے کام خود کرنے کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔
نہ اسکول کے نظام نے اسے یہ سکھایا،نہ گھر کی تربیت نے،کہ اسے اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنے چاہئیں،کہ اسے خود پر انحصار کرنا چاہیے،کہ اسے کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہیے۔
ہم،اداروں میں بیٹھے ہوئے وہ مہربان لوگ،اور گھروں میں موجود حد سے زیادہ مہربان مائیں،انجانے میں اپنے بچوں کو اپاہج بنا رہے ہیں۔
آج جو بچہ دس یا پندرہ سال کی عمر میں
اپنے کپڑے خود نہیں دھو سکتا، اپنا بستر خود نہیں سمیٹ سکتا،یا گھر کے چھوٹے چھوٹے کام نہیں سنبھال سکتا،جو بچہ بکھرا ہوا گھر دیکھ کر اسے سمیٹ نہیں پاتا،جو بچہ گھر کا سودا سلف لانے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا،وہ کل ملک و قوم کا نظام کیسے سنبھالے گا؟
کسی بچے کے اندر یہ صلاحیت محض نصاب سے نہیں ابھرتی،وہ گھر کی تربیت اور تعلیمی نظام دونوں کے اشتراک سے پروان چڑھتی ہے۔
اگر ہم نے اپنے حصے کا کام درست نہ کیا،اگر ہم نے بچے کو خودمختار بننا نہ سکھایا،تو اس کے اندر وہ اہلیت کبھی پیدا نہیں ہو گی جو ایک مضبوط فرد،اور ایک ذمہ دار شہری کے لیے ضروری ہے ۔
آج ترقی یافتہ ممالک اس لیے ترقی یافتہ ہیں کہ وہاں بچوں کے اندر محض علم نہیں بلکہ شعور پیدا کیا جاتا ہے۔
وہاں کا ننھا سا بچہ بھی اپنے کام اپنے ہاتھوں سے خود کرنا سیکھتا ہے۔
حتیٰ کہ انہیں کم عمری سے ایسے ہنر سکھائے جاتے ہیں جو روزگار سے جڑے ہوں،تاکہ وہ ابتدا ہی سے اپنے اخراجات خود اٹھانے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیں۔
ان کی تربیت ،تعلیمی ادارے اور گھریلو ماحول یہ کردار باخوبی ادا کرتے ہیں،وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں ،کہ انسان کو صرف پڑھا لکھا نہیں بلکہ بافہم بااخلاق اور بافیض ہونا چاہیے۔
وہ کسی کی مدد کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے کون ہے،وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ سامنے ایک انسان ہے اور وہ تکلیف میں ہے۔
اور ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے
کہ یہاں بڑے، تجربہ کار اور خود کو باشعور سمجھنے والے لوگ بھی ،کسی کو تکلیف میں دیکھ کر مدد کرنے سے پہلے ،سو بار سوچتے ہیں،اور پھر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ
“اس نے فلاں وقت میرا ساتھ نہیں دیا تھا،
تو میں کیوں اس کا ساتھ دوں؟”
جب بڑوں کا یہ حال ہو تو جو چیز خود ان کے اندر موجود نہیں،وہ بچوں میں کیسے پروان چڑھے؟
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:
کیا بچوں کی تربیت ضروری ہے
یا اپنی؟
میرے نزدیک سب سے پہلے اپنی تربیت ضروری ہے،کہ اب ہمیں حساب کتاب چھوڑ کر ایک اعلیٰ ظرف انسان بن کر جینا سیکھنا ہوگا۔
یہ سوچ ترک کرنی ہوگی کہ سامنے والے نے ہمارے ساتھ کیا کیا تھا،وہ ہمارے مشکل وقت میں آیا تھا یا نہیں آیا۔
ہمارا مشکل وقت گزر چکا،اب ہمیں اتنا حوصلہ، اتنا ظرف،اتنا جگرا پیدا کرنا چاہیے
کہ ہم دوسروں کے کام آ سکیں،تکلیف ہر انسان پر آتی ہے،اور دو اثرات چھوڑ جاتی ہے ۔
ایک یہ کہ انسان سخت مزاج ہو جائے اور سوچتا ہے، کہ جب میرا ساتھ کسی نے نہیں دیا،تو میں بھی کسی کے ساتھ نہیں دوں گا۔
اور دوسرا اثر جو صرف مثبت اور باشعور انسان پر ہی ہوتا ہے یہ کہ
میں نے تنہا تکلیف اٹھائی،اس لیے میں کبھی کسی کو تکلیف میں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔
بدقسمتی سے یہ دوسرا مزاج ،بہت کم لوگ اپنے اندر پیدا کر پاتے ہیں۔
اور یہی مزاج ہمیں ،اپنی اصلاح،اپنی تربیت اور اپنے کردار کا حصہ بنانا ہے،تاکہ ہم یہی چیز اپنے بچوں میں بھی منتقل کر سکیں۔
بچوں کو یہ سکھا سکیں ،کہ مدد کرتے وقت یہ مت دیکھو کہ سامنے کون ہے،بلکہ انسانیت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے کام کرو۔
تمہیں تمہاری نیکی اور اخلاق کا صلہ اللّٰہ دے گا،کسی انسان سے کسی بدلے کی اُمید مت رکھو۔
جب ہم بچوں کے اندر ذمہ داری،انسانیت،اور اخلاقیات شامل کریں گے،تب ہی ہم پورے اعتماد سے کہہ سکیں گے،کہ ہمارا تعلیمی نظام اور ہماری ڈگریاں واقعی فائدہ مند ہیں۔
لیکن اگر ہم خود اپنی اصلاح نہیں کر رہے،
اگر ہمارے ادارے اپنے نصاب میں اخلاقیات شامل نہیں کر رہے،اگر گھروں اور اسکولوں میں بچوں کو یہ نہیں سکھایا جا رہا ،کہ ایک اچھا انسان کون ہوتا ہے۔
اگر ہم انہیں سیرتِ رسول ﷺ کے ذریعےانسان بننا نہیں سکھا رہے،تو پھر یہ تعلیمی نظام،یہ اسکولوں کی فیسیں،یہ دوڑ دھوپ سب بے معنی ہیں۔
کیونکہ اگر تعلیم بچے کو ایک اچھا انسان نہیں بنا رہی،اگر وہ بچہ ملک و قوم کے لیے فائدہ مند نہیں،اگر وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعےدنیا کوئی خیر نہیں بانٹ رہا ،تو پھر اس تعلیم کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔
بحیثیتِ والدین ہم پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے
کہ ہم بیس سے پچیس سال کے بچے کو منا یا کاکا بنا کر نہ پالیں،بلکہ اسے ایک ذمہ دار شہری بننے کی تربیت دیں۔
اس پر اس کی عمر اور صلاحیت کے مطابق ذمہ داریاں عائد کریں،کیونکہ جو بچہ اپنی ذمہ داری خوش اسلوبی اور شعور کے ساتھ نبھانا سیکھ لیتا ہے،وہی کل ملک و قوم کے لیے فائدہ مند بنتا ہے،اور والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بھی۔
اگر ہم اسے صرف اپنی ذات کے لیے جینا سکھائیں گے ۔
اگر ہم اسے خودغرضی اور سہولت پسندی کا عادی بنا دیں گے ۔
تو وہ نہ اپنی زندگی سنوار سکے گا،نہ معاشرے کے لیے کارآمد ہو گا،اور نہ ہی ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن سکے گا۔
اصل کامیابی یہ نہیں ،کہ بچہ صرف آسائشیں کمانا سیکھ لے،بلکہ اصل کامیابی یہ ہے ،کہ وہ شعور، ذمہ داری اور خدمت کے جذبے کے
ساتھ ،زندگی گزارنے کا ہنر سیکھ لے ۔