آزادی کے نعروں میں لپٹی ذلت

  • February 12, 2026

آج عورت کے حق میں نعرے بلند کرنے والے، آزادیٔ نسواں کے علمبردار،اسلام کو قید اور پردے کو ظلم قرار دینے والے،اسلام کو عورت پر ستم کا نظام کہنے والے،
‎اور مسلم عورت کو محض ایک دباؤ میں جیتا ہوا وجود ثابت کرنے والے،آج ان سب کی حقیقت دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔
‎دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ یہ لوگ خود عورت کے کتنے قدردان ہیں ،اور کیسے اس کا تماشا بناتے ہیں۔
‎کیا اب بھی مسلم خواتین نہیں جاگیں؟
‎کیا اب بھی وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ اسلام نے انہیں جو مقام عطا کیا ہے۔
‎وہ قید نہیں، بلکہ عزت، تحفظ اور وقار کی ضمانت ہے؟
‎افسوس کہ اب بھی بہت سی عورتیں اس پہلو پر غور نہیں کر رہی،حالانکہ یہی وہ مقام ہے،جہاں آ کر آزادی کے نعرے لگانے والی،بینر اٹھا کر سڑکوں پر نکلنے والی،
‎آزادی کا مطالبہ کرنے والی،شوہر کی اطاعت سے منہ موڑنے والی، اللّٰہ کی مقرر کردہ حدود کو پامال کرنے والی،اسلام کو قید، پردے کو ظلم،اور اولاد کو بوجھ سمجھنے والی ،ہر عورت کے لیے ٹھہر کر سوچنے کا مقام ہے۔
‎یہ سوچنے کا لمحہ ہے ،کہ اسے جس آزادی کے خواب دکھائے جا رہے ہیں ،وہ حقیقت میں عزت دیتے ہیں
‎یا صرف عورت کو اس کے اصل مقام سے گرا دیتے ہیں۔
‎یہ ان کے لیے سوچنے کا لمحہ ہے،کہ جس آزادی کے خواب انہیں دکھائے جا رہے ہیں،درحقیقت وہی آزادی
‎ان کی ذلت، رسوائی اور بے قدری کا سبب بنے گی۔
‎وہ آزادی جس کے لیے حیا کے دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی ،عورت کو ایک بے کار شے میں بدل دیا جاتا ہے،جس کے جذبات کو تماشہ اور جس کے وجود کو کھیل بنا دیا جاتا ہے۔
‎یہ ٹھہر کر سوچنے کا مقام ہے ،کہ وہ شوہر جو اس کی خاطر زمانے کی خاک چانتا ہے،چار دیواری کے اندر سہولتوں کا انبار لگانے کے لیے خود کو زمانے کی دھول میں مٹا دیتا ہے۔
‎وہ باپ جو محنت مزدوری کر کے ،اپنی اولاد کے لیے زندگی کی آسانیاں سمیٹتا ہے،تعلیم و تربیت کے اخراجات اٹھاتا ہے،ور اپنی اولاد کی آنکھوں میں چمک دیکھنے کے لیے لوگوں کی
سخت باتیں،تلقین ‎اور تنقید بھرے لہجے سہہ لیتا ہے۔
‎وہ بھائی جو اپنی بہن کی عزت کے تحفظ کے
لئے ‎ہر لمحہ فکرمند رہتا ہے۔
‎یہ عورت کے لیے اپنے دل سے سوال کرنے کا لمحہ ہے۔
‎کہ وہ محافظ ،جو اس کی عزت اور ناموس
کی خاطر زمانے کی آندھیوں کے سامنے ڈھال بنے رہے،وہی محافظ ‎کس طرح چند سیاہ ذہنوں،غلیظ سوچوں،میٹھی مگر زہریلی باتوں نے اس کے ذہن میں ظالم اور باغی ٹھہرا دیے ؟
‎یہ سوال ہے،یہ لمحۂ فکریہ ہے،یہ وقت بیداری ہے۔
‎ان کی باتوں میں آ کر عورت کو یہ گمان ہوا ،کہ شوہر، باپ اور بھائی سے بغاوت کر کے،ایک نام نہاد انڈیپینڈنٹ لائف کا انتخاب کر لینے کے بعد ،وہ دنیا میں کوئی بڑا مقام حاصل کر لے گی،ترقی کی منازل طے کر لے گی،زندگی کے حسن سے لطف اندوز ہو گی،اور آزادی کے نام پر زمانے کی رنگینیوں میں کھو جائے گی۔
‎مگر یہ سب ایک خوش نما فریب تھا،ایک ایسی غلط فہمی جس کے پردے ہٹانے کے لیے اللّٰہ نے آج ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز دنیا کے سامنے رکھ دی ۔
‎یہ حقیقت اس لیے آشکار ہوئی کہ مسلم عورت ان سجے سنورے چہروں کے پیچھے چھپے ،سیاہ کرداروں کو پہچان لے،ان آلودہ ذہنوں کے اصل چہروں کو دیکھ لے،ان کی ترجیحات،ان کے اعمال اور ان کے ناپاک مقاصد کو سمجھ لے۔
‎یہ سب اس لیے عیاں کیا گیا تاکہ آج کی
مسلمان عورت ‎اپنے آپ کو محفوظ کر لے،اپنی قدر و قیمت کو پہچان لے،اور یہ جان جائے،کہ چمک دمک دکھا کر،دنیا کی آسائشوں کا لالچ دے کر،جو ہمیں ہماری حفاظت کی چار دیواری سے باہر نکالنا چاہتے ہیں۔
‎وہ درحقیقت ہمیں عزت کی بلندی نہیں بلکہ ذلت کی پستی کی طرف بلا رہے ہیں۔
‎یہ بیداری کا وقت ہے، یہ خود کو پہچاننے کا لمحہ ہے۔
‎یہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے،یہ سوال کہ وہ معاشرے
‎جہاں ایک معصوم بچے کی زندگی کی کوئی وقعت نہیں،جہاں ننھی بچیاں بھی محفوظ نہیں،جہاں خاندانی نظام بکھر چکا ہے،جہاں گندگی ذہنوں اور نظریات میں سرایت کر چکی
ہے ،جہاں انسان ‎اپنی نفسانی خواہشات کی زنجیروں میں جکڑ کر ،اپنی ہی بنیادیں کھو بیٹھا ہے،اور انسانیت کی تمام حدیں پامال کی جا چکی ہیں ،وہ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کے ساتھ ،آخر کیسے مخلص ہو سکتے ہیں؟
‎وہ ہماری ترقی کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
‎وہ ہماری بھلائی کا کیسے سوچ سکتے ہیں؟
‎جو لوگ معصوم بچوں کی معصومیت کو روند سکتے ہیں،جو ننھے وجودوں سے پاکیزگی چھین سکتے ہیں،
‎وہ ہمارے بچوں کے لیے دل میں خیرخواہی
‎کیسے رکھ سکتے ہیں؟
‎یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ جو لوگ پولیو جیسی مہمات پر لاکھوں اور اربوں خرچ کر
رہے ہیں ،‎انھیں ہمارے اور مسائل دیکھائی کیوں نہیں دیتے ،کیا وہ واقعی خیر کے خواہاں ہیں۔
‎یا کسی اور ایجنڈے کے امین؟
‎قرآن تو صاف کہتا ہے ،کہ غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا،پھر ہم کس خوش فہمی میں ،انہیں اپنا محسن مان لیتے ہیں؟
سود کا نظام چلانے والے،سود پر قرضے دینے والے،ہمیں ہمارے اصولوں سے،ہمیں اللّٰہ کے احکامات سے بغاوت پر آمادہ کرنے والے ، ہمارے ساتھ ۔۔۔
‎کیسے مخلص ہو سکتے ہیں؟
‎یہی وہ لوگ ہیں جو نیٹ ورک کو دنیا بھر میں پھیلا کر ہر انسان تک بے حیائی کا پیغام پہنچانے میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔
‎پھر یہ ہمارے گھروں،ہماری نسلوں اور ہماری اقدار کے خیرخواہ ،کیسے ہو سکتے ہیں؟
‎کیونکہ وہ جانتے ہیں ،کہ قوموں کو تباہ کرنے
کے لیے ‎عمارتیں گرانا ضروری نہیں،معیشت کو برباد کرنا بھی لازمی نہیں ،بس شخصیت کو کھوکھلا کر دینا ہی کافی ہے۔
‎میرے نزدیک آج کی جنگ سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی،آج توپ و تفنگ کی گھن گرج نہیں
نہیں، آج کی جنگ ‎ہماری شخصیت پر حملہ ہے،ہماری فکری بنیادوں کو تباہی کیا جا رہا ہے۔
‎کیونکہ غیر مسلم یہ حقیقت جانتا ہے ،کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمان کو قرآن کے ذریعے جو طاقت دی ہے،جو اصول و ضوابط سکھائے ہیں،جو فیصلہ سازی کی صلاحیت عطا کی ہے،اگر مسلمان واقعی ،اپنے دین پر چلنے لگے،اگر وہ اللّٰہ کے احکامات کو
‎اپنی زندگی کا محور بنانے لگے ،اگر وہ نبیِ کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ،جینا سیکھ گے،تو باطل کے ایوان ،خود بخود لرزنے لگیں۔
‎اسی لیے یہ ہماری عمارتوں کو نہیں گرا رہے،یہ ہماری معیشت کو نقصان نہیں دے رہے،افسوس یہ ہماری شخصیت کو مسمار کر رہے ہیں۔
‎اور تاریخ گواہ ہے ،کہ جب کسی معاشرے کی شخصیت تباہ ہو جائے ،تو اس کی عمارتیں ،اس کے اپنے ہاتھوں سے ہی ڈھائی جاتی ہیں۔
‎کاش ہم جاگ جائیں،کاش ہم بیدار ہو جائیں،کاش ہمیں شعور آ جائے،کہ جو اللّٰہ کے منکر ہیں ،وہ ہمارے خیرخواہ ،کبھی نہیں ہو سکتے۔
‎یہ شعور ہی نجات کا راستہ ہے۔
‎وطنِ عزیز پاکستان،جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی،جس کے حصول کا نظریہ یہ تھا ،کہ مسلمان اللّٰہ کے بتائے ہوئے دین کے مطابق ،زندگی گزار سکیں ۔
‎آج اسی نظریے کو رد کیا جا رہا ہے ،آج پاکستان کے کسی چھوٹے سے قصبے، کسی گمنام سے
گاؤں میں ‎ایک غریب گھر کی با صلاحیت بچی ،جس کی اولین ترجیح تعلیم حاصل کرنا ہونی چاہیے،علم کے ذریعے اپنے حالات بدلنا،اپنے خاندان کو سہارا دینا،اور خود کو باوقار طور پر خودمختار بنانا ہونا چاہیے،اسی کی ذہن سازی اس قدر ہوشیاری، سیاست اور منصوبہ بندی سے کی جا رہی ہے،کہ اس کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے،کہ اس کے پاس ،اپنی زندگی بدلنے کا ،آخری اور واحد راستہ ،سوشل میڈیا پر آ کر ،بے حیائی پھیلانا ہے۔
‎اسے یہ باور کرایا جا رہا ہے،کہ اگر وہ ناچے گی،گائے گی،اپنے جسم اور وجود کو نمائش بنا دے گی،تو یہی اس کی نجات ہے،یہی اس کی ترقی ہے،یہی اس کا مستقبل ہے۔
‎افسوس کا مقام ہے ،کہ جب آج ہم ٹک ٹاک، فیس بک یا انسٹاگرام کھولتے ہیں ،تو سامنے ،ہمارے ہی وطن کی بیٹیاں ہیں ،وہ بیٹیاں ،جنہیں اللّٰہ نے ایسی صلاحیتیں عطا کی ہیں ،کہ وہ نہ صرف اپنے حالات بدل سکتی تھیں ،بلکہ ملک و قوم کے لیے ،ایک کار آمد سرمایہ بن سکتی تھیں۔
‎اسی طرح ہمارے وہ نوجوان بھائی ،جو اگر درست منزل کا انتخاب کریں،اگر محنت کو اپنا شعار بنا لیں،تو نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں ،بلکہ قوم کی تقدیر سنوارنے کا سبب بن سکتے ہیں ،افسوس آج وہ بھی
‎اسی فتنۂ سوشل میڈیا میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
‎آج سوشل میڈیا پر ہمارے ہی بہن بھائی ،اپنی ذاتی زندگی کو تماشا بنائے ہوئے ہیں ،اپنے گھر،باورچی خانے،غسل خانے،کمرے،ماں، بہن حتیٰ کہ نجی لمحوں تک کو ،دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
‎حیرت کی بات یہ بھی ہے ،کہ نہ چہرے پر شرم ہے،نہ دل میں افسوس ،گویا دو وقت کی روٹی
کمانے کا ‎آخری ذریعہ یہی رہ گیا ہو ،کہ اپنی بیٹیوں کو نچوایا جائے اور اپنی عزت کو خود نیلام کیا جائے۔
‎اس حقیقت سے انکار بھی نہیں،کہ سوشل میڈیا کو مثبت طور پر استعمال کرنے والے آج بھی موجود ہیں مگر ان کی تعداد نہایت کم ہے۔
‎اکثریت ،اسی جال میں پھنستی جا رہی ہے،جو نہایت مہارت سے بچھایا گیا ہے۔
‎اور یہی وہ لوگ ہیں ،جو ہمیں حقوقِ نسواں کے لیکچر دیتے ہیں،جو آزادی پر تقریریں سناتے ہیں،جو ہمارے دین کو بوجھ اور قید ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں،
‎جو ہمارے علماء کو دہشت گرد کہتے ہیں،اور ہماری بچیوں کو پردے سے متنفر کرتے ہیں ، وہ ہماری بیٹیوں کو عزت کی بلندی پر نہیں ،بلکہ ذلت کی گہرائیوں میں دیکھنے کے خواہش مند ہیں،اے کاش ہم جاگ جائیں۔
‎اے کاش ہماری عورت یہ سمجھ لے ،کہ اس کی عزت کے ساتھ کس طرح کھیل کھیلا جا رہا ہے،
اور اسے کس سوچے سمجھے راستے پر تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
اے کاش ہم بیدار ہو جائیں،اپنے آپ سے مخلص ہو جائیں، اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو بوجھ نہیں،رحمت سمجھ لیں۔
‎ اللّٰہ تو قرآن میں بار بار فرماتا ہے:
‎“مجھے کیا ملے گا تمہیں جہنم میں ڈال کر، اگر تم باز آ جاؤ؟”
‎کیا ہم اس آیت میں چھپی اللّٰہ کی محبت محسوس نہیں ہوتی ۔
‎بالکل ویسے ہی جیسے ایک ماں اپنے بچے کو سمجھاتے ہوئے کہتی ہے
کہ اگر تم سنبھل جاؤ ،تو مجھے تمھیں ڈانٹ کر کہا ملے گا ۔
‎اے کاش ہم مومن بن جائیں،سوشل میڈیا کے اس جال کو ،جو ہمیں تباہ کرنے کے لیے بچھایا گیا ہے،اپنے لیے فائدہ مند بنانا سیکھ لیں۔
اے کاش ہم دشمن کو مات دینے کا عزم کر لیں،اور اپنے دین سے جُڑ کر ،وہی وقار،وہی ہیبت،وہی طاقتدوبارہ حاصل کر لیں ،جو ہمارے صحابۂ کرامؓ کے کردار سے جھلکتی تھی۔
‎مگر اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں بیدار ہونا
ہوگا ‎پھر اپنی اصلاح کرنی ہوگی،اور اپنے دین سے سچا تعلق جوڑنا ہوگا۔
اور ان شاء اللّٰہ ،یہی بیداری،یہی اصلاح ،ہمیں فتح کے قابل بنائے گی۔

Tags:

Share:

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You May Also Like

پیسہ کمانا کوئی بڑی بات نہیں،اصل کمال تو بندے کمانا ہے۔ہم اکثر نادانی کر بیٹھتے ہیں؛ مادی چیزوں کو سمیٹنے...
نیٹ ورک کی اس اندھی اور پُر فریب دنیا میں اب کوئی بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا،...
ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے افسوسناک واقعات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہر دن...
وہ دھیمے دھیمے قدموں سے باغیچے کی طرف چلتے ہوئے انجانے خیالوں میں گم تھی۔اسے یوں محسوس ہو رہا تھا...